ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

بھٹو اور شریفوں کے درمیان باہمی اعتماد کے فقدان سے کس نے فائدہ اٹھایا؟ سینئر صحافی نے خبر دار کردیا

datetime 31  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھٹو اور شریفوں کے درمیان باہمی اعتماد کے فقدان کی 1970 کی دہائی سے ایک تاریخ ہے۔ انہوں نے بداعتمادی کو ختم کرکے اعتماد سازی کیلئے اکثر کوششیں بھی کیں لیکن زخم اس قدر گہرے ہیں کہ انہیں مندمل کرنا آسان نہ ہو گا۔ اسی چیز نے پنجاب اور سندھ میں ان کے کارکنوں کے درمیان خلیج حائل کردی ہے۔روزنامہ جنگ

میں مظہر عباسی لکھتے ہیں کہ نئی قیادت کو نئی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنے کے بجائے وہی نفرتیں اور سیاسی عدم اعتمادی آئندہ نسل میں منتقل کی جا رہی ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ ان رویوں نے ملک میں سیاسی و جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن اس بات سے طاقتور حلقوں کو سیاسی نظام میں دخل اندازی اور ایک دوسرے کو لڑانے کا موقع مل گیا۔ چونکہ آج بھی معاملات نواز شریف اور آصف علی زرداری کے قابو میں ہیں لہذا مریم اور بلاول بھی ماضی کی سیاست کے ہی یرغمال ہیں۔انہیں اس ماضی سے نکلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اپنے بزرگوں کے اختیار کردہ موقف اور راستے سے انحراف ان دونوں کے لئے آسان نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس میں یہی کچھ ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔ حالات اس وقت بدسے

بدتر ہو گئے جب زرداری نے نواز شریف کو کہا وہ لانگ مارچ چاہتے ہیں تو پاکستان واپس آکر احتجاج کی قیادت کریں۔ اس بات نے نواز شریف میں خفگی پیدا کی۔اب اس کیفیت میں بلاول جو کاغذ پر تو اپنی پارٹی کے چیئرمین، زرداری شریک چیئرمین اور مریم ن لیگ کی نائب صدر

اور عملاً اپنے والد کی غیر موجودگی میں شہباز شریف کے صدر ہونے کے باوجود پارٹی سربراہ ہیں لیکن مشکل ہی سے پالیسی فیصلے کر سکتے ہیں۔مسلم لیگ (ن)کی پنجاب اور پیپلز پارٹی کی سندھ میں جڑیں ہیں لیکن دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف سیاست کا نقصان اٹھانا

پڑ رہا ہے۔ بلاول اور مریم دونوں ہی اپنے والد کے اختیار کردہ خطوط پر ہی عمل پیرا ہیں۔مسلم لیگ (ن)کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ سیاسی بیانیہ یا قیادت پر پیپلزپارٹی کو کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں ایسا نہیں ہے۔ شہباز شریف اور ان کے

بیٹے پارٹی کے اندر اختلاف تو رکھتے ہیں۔ خاندانی سیاست کی بھی اپنی جگہ خامیاں ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ خاندان کے ہر فرد کی سوچ یکساں ہو۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ممکن ہے کہ نئی نسل اپنے پیشرو سے کہیں زیادہ بن کر سامنے آئے۔ یہ بھی روایت ہے کہ لوگ سیاسی خاندانوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…