پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا  وائرس کی جعلی ویکسین و رپورٹس کی آن لائن فروخت کا انکشاف 

datetime 23  مارچ‬‮  2021 |

لندن (این این آئی) دنیا کے زیادہ تر ممالک میں اب اگرچہ کورونا سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا تاہم بہت سارے ممالک میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں تاحال ویکسین تک رسائی نہیں مل سکی۔جہاں ویکسین کے آنے کے باوجود کورونا پر کنٹرول نہیں ہوا، وہیں کئی ممالک نے پھیلتی وہا سے بچنے کے لیے کئی سختیاں اور نئے نظام بھی نافذ کر رکھے ہیں۔امریکا اور یورپ کے

متعدد ممالک نے بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے منفی کورونا ٹیسٹ اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جیسے دستاویزات لازمی قرار دئیے ہیں اور ایسے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے کئی لوگ غیر قانونی کام بھی کر رہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایک عالمی انٹرنیٹ سیکیورٹی ادارے کی تازہ تحقیق کے مطابق ’ڈارک نیٹ‘ پر کورونا کی جعلی منفی رپورٹس، کورونا ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹ اور یہاں تک کہ کورونا سے تحفظ کی ویکسین کی فروخت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چیک پوائنٹ ریسرچ‘ نامی سائبر سیکیورٹی ادارے کے تفتیش کاروں نے کھوج لگائی ہے کہ ’ڈارک نیٹ‘ پر کورونا سے بچائوکی آکسفورڈ و ایسٹرازینیکا، جانسن اینڈ جانسن، سنوفارم اور اسپوٹنک کی ویکسین بھی فروخت کی جا رہی ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ڈارک نیٹ’ پر جعلی منفی کورونا ٹیسٹس اور جعلی کورونا ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹس بھی بیچے جا رہے ہیں اور عام طور پر یہ کام جرمنی، روس، امریکا، برطانیہ اور اٹلی جیسے ممالک سے کیا جا رہا ہے۔جعلی منفی کورونا رپورٹس اور جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹس زیادہ تر ایسے لوگ حاصل کر رہے ہیں جو یورپ کے متعدد ممالک کا سفر کرنا یا وہاں ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تاہم ایسی سہولیات ایسے لوگ بھی حاصل کر رہے ہیں جو کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کی جانب سفر یا ملازمت کے خواہاں ہیں۔رپورٹ کے مطابق ’ڈارک نیٹ‘ پر دو جعلی کورونا منفی رپورٹس خریدنے پر ایک مفت رپورٹ فراہم جیسے پیکیجز بھی متعارف کرائے گئے ہیں ،کورونا سے تحفظ کی ویکسینز 500 ڈالر سے 750 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 75 ہزار روپے سے سوا لاکھ روپے تک کی رقم میں فروخت کی جا رہی ہیں۔تحقیق کاروں نے بتایا کہ انہوں نے بھی ’ڈارک نیٹ’ پر کورونا سے تحفظ کی ویکسین کا ا?رڈر دیا مگر کئی دن گزر جانے کے باوجود انہیں آرڈر نہیں ملا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر ویب سائٹس پر روسی اور انگریزی زبان میں جعلی کورونا منفی رپورٹس اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹس کے اشتہارات دئیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…