جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کیا روزہ کی حالت میں کورونا ویکسین لگوانا جائز ہے؟ مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کر دیا

datetime 19  مارچ‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے فتوی دیا ہے کہ روزہ کی حالت میں کورونا ویکسین لگوانا جائز ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ ویکسین لگوانے سے روزہ باطل نہیں ہوگا، کورونا ویکسین عضلاتی طور پر لگائی جاتی ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ دوسری جانب اسلامک افیئرز اینڈ چیریٹیبل ایکٹویٹیز ڈیپارٹمنٹ دبئی کے

مفتی اعظم ڈاکٹر محمد عیادہ الکبیسی کا کہنا تھا کہ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رگوں یا گوشت میں لگائے جانے والے انجیکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا،انہیوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ ایسی دوائی نہ ہو جو بھوک مٹانے کیلئے استعمال ہوتی ہو۔خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں12 کروڑ23لاکھ 67ہزار سے زائد افراد متاثر اور27 لاکھ 3 ہزار 176 ہلاک ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 9 کروڑ86لاکھ 58ہزار سے زائد اور فعال کیسز کی تعداد 2 کروڑ10لاکھ 5 ہزار سے زائد ہے۔امریکہ میں کورونا سے مرنے والوں کی کل تعداد 5 لاکھ 52 ہزار470تک پہنچ گئی ہے جبکہ 3کروڑ3 لاکھ58 ہزارسے زائد متاثر ہیں۔برازیل میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 17 لاکھ سے87 ہزار زائد ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 87 ہزار 795 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔بھارت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ 13 ہزار سے زائد ہے اورایک لاکھ 59 ہزار 405 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔روس میں 44 لاکھ سے28 زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 93 ہزار 824 ہے۔برطانیہ میں 42 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور ایک لاکھ 25 ہزار831 اموات ہوچکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…