بدھ‬‮ ، 04 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

سینیٹ کی خالی نشستوں پر امیدواروں کو منتخب کرنے کیلئے پولنگ کل ہوگی ، تمام تر تیاریاں مکمل

datetime 2  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد/لاہور(این این آئی)ایوان بالا (سینیٹ )کی نشستوں پر امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ کل3 مارچ کو ہو گی،حکومت اوراپوزیشن کے 52اراکین 11مارچ کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ سینیٹ کی11 خالی نشستوں پر پنجاب سے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات

کیلئے انتظامات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے اور ووٹنگ کیلئے صوبائی اسمبلیوں اورقومی اسمبلی کوپولنگ اسٹیشنزقرار دیاگیا ہے جہاں ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوگا جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہوگا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے موبائل فون پولنگ اسٹیشن لانے پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی اور جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی ہوگی۔سینیٹ انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیلئے بھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔ 11 مارچ 2021 کو اپنی 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے 65 فیصد سے زائد سینیٹرز کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔103 اراکین سینٹ میں سے 52 اراکین ریٹائر ہورہے ہیں جس میں 34 کا تعلق اپوزیشن جبکہ

18 حکومتی بنچوںسے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سینیٹ میں اراکین کے حساب سے سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن)کے موجودہ 30 سینیٹرز میں سے 17 ریٹائر ہورہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے21سینیٹرزمیں8 اپنی 6 سالہ مدت پوری کریں گے۔جمعیت علمائے اسلام (ف)، نیشنل پارٹی اور

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2، 2 ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک، ایک سینیٹر بھی 11مارچ کو ریٹائر ہوں گے ۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ 14 سینیٹرز میں سے 7 ریٹائر ہورہے ہیں ۔ایم کیو ایم کے 4 ،

بلوچستان عوامی پارٹی کے3 جبکہ 4 آزاد امیدوار وں کا تعلق سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)سے ہے۔ایک سینیٹر کی مدت 6 سال ہے تاہم مجموعی تعداد میں سے 50 فیصد ہر 3 سال بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں اور نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں، ہر صوبے کے

مختلف نشستوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ہی منتقل شدہ حق رائے کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے ساتھ انتخابات ہوتے ہیں۔آنے والا سینیٹ 98 اراکین پر مشتمل ہوگا کیونکہ ملک کے قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا ہ کے ساتھ انضمام کے بعد 4 خالی نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے لہٰذاسینیٹ کے انتخابات ہمیشہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔



کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…