بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

افغانستان سے درآمدہ کوئلے پر زائد ٹیکس وصولی پر جواب طلب

datetime 13  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت نے افغانستان سے درآمد کیے گئے کوئلے پر زیادہ ٹیکس وصول کرنے پر وزارت تجارت سے جواب طلب کر لیا ہے۔کمیٹی کے رکن عثمان کاکڑ نے قائمہ کمیٹی کو درخواست دی ہے کہ پاکستان میں جو کوئلہ دیگر ممالک سے درآمد ہو رہاہے وہ کراچی کے ذریعے آتا ہے، کراچی میں کوئلہ صرف ایک کمپنی درآمد کر رہی ہے اور اس پر ستر ڈالر فی میٹرک ٹن ٹیکس عائد کیا گیا ہے جبکہ افغانستان سے پینتیس کمپنیوں کے ذریعے کوئلہ درآمد کیا جاتا ہے لیکن اس پرطورخم بارڈر پر85 ڈالر فی میٹرک ٹن ٹیکس عائد کیا گیا ہے اس طرح پندھرہ ڈالر فی میٹرک ٹن کا فرق عائد کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے کراچی کی مارکیٹ سستی ہو گئی ہے جبکہ افغانستان سے کوئلہ منگوالے والے درا?مد کنندگا ن کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے ملک اور کاروبار کو نقصان ہو رہا ہے، اس کا نوٹس لیا جائے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے وزارت تجارت کے سیکریٹری سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام سے جلد از جلد اطلاعات حاصل کرکے کمیٹی کو ا?گاہ کریں تاکہ اس مسئلے پر مزید کارروائی کی جا سکے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں مختلف قوانین رائج ہیں، افغانستان سے کوئلے کی درآمد کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے درآمد کنندگان کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بزنس مین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اگر ملک میں سرمایہ کار اور تاجر فرینڈلی ماحول بنایا جائے تو اس سے سرمایہ کاری ہو گی اور روزگار کے دروازے کھلیں گے۔ اس حوالے سے جب وزارت تجارت کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی درا?مد کے مسئلے پر ایف بی آر سے جواب لے کر قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…