بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ہمیں خواجہ سرائوں کو بھی اپنے معاشرے کے حصے کے طو رپر تسلیم کرنا ہوگا ،خواجہ سرائوں کا کیا قصور ہے ،یہ تو خدا کی تخلیق ہے، رابی پیرزادہ کی خوبصورت باتیں

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)شوبزکو خیر باد کہنے والی رابی پیرزادہ نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سرائوں کو تضحیک اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہمیں ان کے حوالے سے اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ ایک انٹر ویو میں رابی پیرزادہ نے کہا کہ خواجہ سرائوں پر تشدد اور زیادتی کے واقعات عام سننے

کو ملتے ہیں، آخر اس نفرت کی وجہ کیا ہے؟ کیا صرف یہی کہ وہ جسمانی طور پر عورتوں اور مردوں سے مختلف ہیں، لیکن اس میں ان خواجہ سرائوں کا کیا قصور ہے ،یہ تو خدا کی تخلیق ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی دوسری مخلوق کی طرح ہم انہیں اس معاشرے کا حصہ کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ رابی پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ خواجہ سرا ء معاشرے میں فحاشی کا سبب ہیں لیکن جب آپ کسی طبقے کی راہیں محدود کریں گے تب ہی وہ متبادل راہوں کا انتخاب کرے گا۔ ہمیں خواجہ سرائوں کو بھی اپنے معاشرے کے حصے کے طو رپر تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں انسان جانتے ہوئے ان سے برابری کا سلوک کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اداکار ہ ہما علی نے پنجاب بھر کے تھیٹروں میں پرفارم کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ۔ اسٹیج کی نامور اداکارہ ہما علی جو لاہور کے علاوہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں ان دنوں قصور میں زیر نمائش اسٹیج ڈرامہ ’’ ٹھگ میرے بادشاہ ‘‘ میں پرفارم کر رہی ہیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ لاہور سے باہر دوسرے شہروں میں بھی کام کرنے کا تجربہ انتہائی خوشگوار رہا ہے ۔جب دوسرے کے پرستاربھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں اور اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں تو بیحد خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے ۔ اداکارہ پروڈیوسر آصف علی راہی ہیں کے ساتھ پہلی مرتبہ قصور کے سٹی تھیٹر میں پرفارم کررہی ہیں جسے بے حد پذیرائی مل رہی ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…