جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ہمیں خواجہ سرائوں کو بھی اپنے معاشرے کے حصے کے طو رپر تسلیم کرنا ہوگا ،خواجہ سرائوں کا کیا قصور ہے ،یہ تو خدا کی تخلیق ہے، رابی پیرزادہ کی خوبصورت باتیں

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)شوبزکو خیر باد کہنے والی رابی پیرزادہ نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سرائوں کو تضحیک اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہمیں ان کے حوالے سے اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ ایک انٹر ویو میں رابی پیرزادہ نے کہا کہ خواجہ سرائوں پر تشدد اور زیادتی کے واقعات عام سننے

کو ملتے ہیں، آخر اس نفرت کی وجہ کیا ہے؟ کیا صرف یہی کہ وہ جسمانی طور پر عورتوں اور مردوں سے مختلف ہیں، لیکن اس میں ان خواجہ سرائوں کا کیا قصور ہے ،یہ تو خدا کی تخلیق ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی دوسری مخلوق کی طرح ہم انہیں اس معاشرے کا حصہ کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ رابی پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ خواجہ سرا ء معاشرے میں فحاشی کا سبب ہیں لیکن جب آپ کسی طبقے کی راہیں محدود کریں گے تب ہی وہ متبادل راہوں کا انتخاب کرے گا۔ ہمیں خواجہ سرائوں کو بھی اپنے معاشرے کے حصے کے طو رپر تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں انسان جانتے ہوئے ان سے برابری کا سلوک کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اداکار ہ ہما علی نے پنجاب بھر کے تھیٹروں میں پرفارم کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ۔ اسٹیج کی نامور اداکارہ ہما علی جو لاہور کے علاوہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں ان دنوں قصور میں زیر نمائش اسٹیج ڈرامہ ’’ ٹھگ میرے بادشاہ ‘‘ میں پرفارم کر رہی ہیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ لاہور سے باہر دوسرے شہروں میں بھی کام کرنے کا تجربہ انتہائی خوشگوار رہا ہے ۔جب دوسرے کے پرستاربھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں اور اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں تو بیحد خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے ۔ اداکارہ پروڈیوسر آصف علی راہی ہیں کے ساتھ پہلی مرتبہ قصور کے سٹی تھیٹر میں پرفارم کررہی ہیں جسے بے حد پذیرائی مل رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…