بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سینٹ میں ووٹ بیچنا اور خریدنا حرام فتویٰ جاری

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) دار الافتاء کااجلاس زیر صدارت چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمودقاسمی کے منعقد ہوا جس میں رئیس دار الافتاء مفتی حفظ الرحمن بنوری مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شاہ نواز فاروقی وائس چیئرمین مولانا یار محمد عابد وائس چیئرمین

صاحبزادہ پیر جی خالد محمود قاسمی وائس چیئرمین مولانا محمد شعبان صدیقی وائس چیئرمین حافظ شعیب الرحمن قاسمی وائس چیئرمین مولانا عبدالمنان عثمانی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا شبیر احمد عثمانی ڈپٹی سیکرٹری حافظ محمد امجد ایڈیشنل سیکرٹری مولانا خالد محمود سرفرازی فنانس سیکرٹری مولانا حفیظ الرحمن کشمیری قانونی مشیرمیاں محمدطیب ایڈووکیٹ نے شرکت کی ،دار الافتاء کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ انسانوں کو بیچنا اور خریدنا گناہ ہے، ایوان بالا سینٹ کے رکن بننے کیلئے آج کل بولیاں لگا ئی جارہی ہیں ،یہ انسانیت کی تذلیل ہے ،سینٹ میں ووٹ بیچنے اور خریدنے والے انسان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں، ایسے افرادکو قانون کے شکنجے میں لاکر نشان عبرت بنایا جائے، سینٹ الیکشن جو کہ 3مارچ کو ہونے جارہے ہیں ایک ویڈیو نے عوامی ذہن کو سینٹ الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے مشکوک بنادیا ہے ،معزز اداروں کے اراکین کا خرید و فروخت کرنا جمہوریت اور انسانیت کی تذلیل

ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے، جو شخص قومی اسمبلی یا ایوان بالا سینٹ کا رکن کروڑوں روپے خرچ کرکے بنے گا ایوان میں بیٹھ کر ملک و قوم کی خدمت نہیں کرسکے گا ،ممبر منتخب ہونے کیلئے شفافیت کو معیار بنایا جائے، مرکزی علماء کونسل پاکستان نے

ملک کی مقتدر سیاسی پارٹیوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ سینٹ کیلئے خرید و فروخت کے عمل کو روکا جائے چونکہ یہ سراسر دین اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، ایسے افراد کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری کیا جائے جو محب وطن ہوں اور سینٹ کا رکن بن کر اسلام اور پاکستان کی خدمت کرسکے، مرکزی علماء کونسل کے دار الافتاء نے ملک کے مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سینٹ میں خرید و فروخت میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے اور قرار واقعی سزا دی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…