اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

’’پاکستان مسلم لیگ ن میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آگئے‘‘ ن لیگ نے اپنے ہی چیئرمین کی پارلیمانی سیاست ختم کردی

datetime 16  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )سینٹ ٹکٹوں میں تقسیم ، دیگر جماعتوں کی طرح ن لیگ کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ۔ ن لیگ نے اپنے ہی چیئرمین کی پارلیمانی سیاست کو ختم کر دیا۔ شاہدخاقان عباسی نے راجہ ظفر الحق کو ‏سینیٹ ٹکٹ دینےکی مخالفت کر دی۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست اور سیاسی اقدار تبدیل ہوچکے راجہ ظفرالحق کی جگہ نہیں، ‏ظفرالحق نے اپنے

بیٹےمحمدعلی راجہ کیلئےسینیٹ ٹکٹ مانگالیکن نہیں دیاگیا۔نجی ٹی وی اے آروائی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کے مطابق سینئر لیگی رہنما نے ظفرالحق کی عمر کی وجہ سے ان کی مخالفت کی۔مسلم لیگ ن نے پارٹی چیئرمین کو سینیٹ ٹکٹ الاٹ نہ کیا، چیئرمین ن لیگ راجہ ظفرالحق کیساتھ ساتھ ‏محمدزبیربھی سینیٹ سیٹ سے محروم ہوگئے۔ن لیگ کےپارٹی آئین کےمطابق چیئرمین کاعہدہ آئینی ہے، پارٹی آئین میں قائد کا کوئی عہدہ نہیں، نوازشریف ‏‏پارٹی قائدہیں جبکہ آئینی چیئرمین کو ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔دوسری جانب ن لیگ میں بھی سینٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے ،نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ن لیگ میں دوگروپ آمنے سامنے پر لیگی قیادت ٹکٹوں کا فیصلہ نہ کر سکی ،ذرائع کاکہنا ہے کہ شہبازشریف گروپ نے مشاہد اللہ کوٹکٹ دینے کی مخالفت کردی ،گروپ کا موقف ہے کہ مشاہداللہ بیمارہیں،کسی متحرک رہنماکوسینٹ ٹکٹ دیاجائے،قیادت کی جانب سے مشاہداللہ کے بجائے عرفان صدیقی کومیدان میں اتارے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ پارٹی کے دوسرے گروپ نے اعظم نذیرتارڑکو ٹکٹ دینے کی مخالفت کردی، دوسرے گروپ کااعتراض ہے کہ اعظم نذیر تارڑ کی پارٹی کیلئے کیا خدمات ہیں؟گروپ نے قیادت کو سفارش کی ہے کہ اعظم نذیرتارڑکے بجائے زاہد حامد کو ٹکٹ دیا جائے۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ کی نشست پر کامیابی کیلئے کم ازکم 8ووٹوں کی ضرورت ہے ،بلوچستان کی 65 رکنی اسمبلی کے ایوان میں سینیٹ کی سات میں سے ہر جنرل نشست جیتنے کے لیے کم سے کم آٹھ ووٹوں کی ضرورت ہے۔ نو ووٹوں والا یقینی طور پر جیت جائے گا جبکہ اس سے کم ووٹوں کے حامل امیدوار کی جیت کا فیصلہ پوائنٹس پر ہوگا۔بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی 24 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پی ٹی آئی سات، اے این پی چار، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)تین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی 2 اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک رکن ہے۔ یوں حکمران اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 41 اراکین ہیں۔ مسلم لیگ ن کے واحد رکن نواب ثنا اللہ زہری پارٹی سے وابستگی ختم کر چکے ہیں اور حکمران اتحاد کا ساتھ دے سکتے ہیں۔اپوزیشن اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی دس دس نشستوں کی حامل ہیں۔ انہیں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرے اور آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پشین سے بلوچستان اسمبلی کی خالی نشست پر منگل کو ہونے والے انتخاب میں بھی جے یو آئی کی کامیابی کا واضح امکان ہے۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…