اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

الرجی کاباعث بننے والی غذائیں

datetime 12  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)عام طورالرجی کا شکار لوگ موسم کی خرابی کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن ماہرین طب کا کہنا ہے کہ الرجی کی وجہ صرف موسم نہیں بلکہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کو کھانے سے الرجی ہوجاتی ہے ان میں چند ایسی غذائیں شامل ہیں جوعام طور پر شوق سے کھائی جاتی ہیں لیکن بہت سے لوگوں میں الرجی کا باعث بن جاتی ہیں۔
مونگ پھلی: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی 0.4 فیصد سے لے کر 0.6 فیصد لوگوں کو متاثر کرتی ہے جس سے ہونے والی الرجی غذائی نظام، جلدی اور دمہ جیسی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔
سویا بین: سویا بین میں فیٹو ایسٹروجن اور فائبر کی کی بڑی مقدار میں موجودگی الرجی کا باعث بنتی ہے اور جو پیٹ میں گیس، منہ سوجن، پیٹ میں سوزش، پیٹ کا درد اور ہیضہ کا باعث بنتا ہے۔
سبزیاں: ماہر طب کے مطابق گاجر، پالک، گوبھی، پیاز، ادرک، پھول گوبھی، آلو اور کدو ایسی سبزیاں ہیں جو الرجی کا باعث بن سکتی ہیں ان سے جلد پر لال نشان، پیٹ کا درد اور گیس جیسی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
پھل: اسی طرح اسٹرابری، کیلا، مالٹا اور انگور بھی کچھ لوگوں میں الرجی کا باعث ہوسکتے ہیں کیوں کہ ان میں ترش پن ہوتا ہے اس لیے ان سے عام طو پر اٹوپک الرجی ہو سکتی ہے۔
گندم کا آٹا: گندم کا آٹا بھی کچھ لوگوں میں الرجی کی وجہ بن سکتا ہے اس سے سیلک یا شکم میں سوزش جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ سیلک انسانی جسم میں موجود چھوٹی آنت کو متاثر کرتی ہے اور اس کو اہم غذائی اجزا کو جذب کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے یہ الرجی جو اورگیہوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔
گائے کا دودھ: گائے کے دودھ میں پروٹین کیسین اور بٹا لیکٹو گلوبن نامی الرجی عناصر موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں میں گردے کی تکلیف ہوسکتی ہے اس سے دیگر الرجی ری ایکشن میں پیٹ کا درد اور پیچس ہوسکتے ہیں۔
انڈے: کچھ لوگوں میں انڈے کھانے سے الرجی ری ایکشن ہوجاتا ہے جس سے جلدی بیماری کوٹا نیوس ہوسکتی ہے۔
مچھلی اور گوشت: مچھلی اور گوشت کھانے سے انفیکشن اورٹیکیریا، آنتوں کا درد اور کچھ کیسز میں دمہ جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔
کولڈ ڈرنکس اور جوسز: کولڈ ڈرنکس اور جوسز کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا الرجی کا باعث بن سکتے ہیں جس سے پیٹ کا درد اور گیس جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے جن لوگوں کو ان غذاو¿ں سے الرجی ہوتی ہے وہ ان کے استعمال سے گریز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…