بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی کے شہریوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی کیلئے ایسے متعدد منصوبے ہیں جن پر وفاق اپنی آئینی ذمہ داری سے بڑھ کر اخلاقی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔فائر ٹینڈرز کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے حوالے سے کرنے کے لیے کراچی میں گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا شہر جو باقی پاکستان کو وسائل فراہم کرتا ہے

اس کو چلانے والے ادارے کے یہ حالات ہیں کہ فائر انجنز نہیں ہیں، اگر فائر انجن ہیں تو ڈیزل اورپیٹرول کے پیسے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں براہ راست ٹیکسز کی مد میں 40 فیصد جبکہ سندھ کا 90 فیصد سے زائد ریونیو کراچی سے اکٹھا ہوتا ہے اور پھر کراچی کی یہ حالات انتہائی افسوسناک بات ہے۔اسد عمر نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت نے مل کر کراچی ٹرانسفارمیشن پیکج پر کام کرنے کافیصلہ کیا تو اس میں ایک مطالبہ یہ تھا کہ کراچی کی شہری انتظامیہ کے پاس جو ماضی میں ادارے تھے اور بعد میں انہیں صوبائی حکومت نے لے لیا تھا انہیں شہری انتطامیہ کو دوبارہ واپس کیا جائے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ادارے واپس بھی کردیے جائیں اور کے ایم سی کے یہ حالات ہوں کہ تنخواہوں کی ادائیگی گاڑیوں کے ایندھن کے لیے پیسے نہ ہوں، تو یہ سب اس وقت ہوگا کہ جب صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور اس شہر کو اپنایا جائے۔ انہوں نے شہریوں کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پیکج کے تحت جن دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے اس میں پیش رفت جاری ہے، گرین لائن منصوبے کے آخری 2 مراحل پر کام کا آغاز ہوگیا ہے اور امید ہے کہ جون تک بسز بھی پہنچ جائیں گی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ امید ہے رواں برس جولائی اور اگست میں کراچی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گرین لائن کی شکل میں جدید ترین ٹرانسپورٹ کا نظام چلنا شروع ہوجائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے محمود آباد نالے پر عملی کام کا آغاز کردیا ہے جبکہ اورنگی اور دیگر نالوں پر بھی تجاوزات ہٹانے کے بعد کام شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ کے 4 فور منصوبے کو تیزی سے پایہ تکمیل پر پہنچانے کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے جس میں منصوبے کی ٹائم لائن پر نظرِ ثانی کی جائے گی، اس کے علاوہ پاکستان ریلوے جن 2 منصوبوں پر کام کررہی ہے اس میں بھی بہتری آئے گی۔علاوہ ازیں کراچی کا دیرینہ خواب، کراچی سرکلر ریلوے پر کئی دہائیوں سے کام ہورہا ہے انشا اللہ اس منصوبے کو بھی تیزی سے آگے لے چلیں، کراچی کے لیے ایسے متعدد منصوبے ہیں جن پر وفاق اپنی آئینی ذمہ داری سے بڑھ کر اخلاقی ذمہ داری ادا کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…