پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فیس ماسک کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا امریکی ادارے کی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی)فیس ماسک پہننے سے لوگوں کو نئے کورونا وائرس سے تحفظ ملتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے۔فیس ماسک پہننے سے جو نمی پیدا ہوتی ہے وہ نظام تنفس کے امراض جیسے کووڈ 19 سے لڑنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے

نیشنل انسٹیٹوٹ آف ڈائیبیٹس اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک پہننے کے بعد جب سانس خارج کی جاتی ہے تو ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق زیادہ نمی والی ہوا کو جب سانس کے ذریعے اندر کھینچا جاتا ہے تو کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر بھی لوگوں میں بیماری کی شدت زیادہ نہیں ہوتی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سانس کی نالی میں ہائیڈریشن مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ فیس ماسکس سے جسم کے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں سانس کی نالی کو زیادہ ہائیڈریشن میسر آتی ہے، جس کے نتیجے میں مرض کی شدت گھٹ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نمی کی زیادہ سطح فلو کی شدت میں کمی لانے کے لیے ثابت ہوچکی ہے اور ممکنہ طور پر اس کا اطلاق کووڈ 19 پر بھی ہوسکتا ہے۔ہوا میں زیادہ نمی سے کسی وائرس کے پھیپھڑوں تک پھیلا محدود ہوسکتا ہے، کیونکہ ایک ایسا دفاعی میکنزم متحرک ہوتا ہے جو بلغم اور اس میں موجود نقصان دہ اجزا کو خارج کرتا ہے۔نمی کی زیادہ مقدار مدافعتی نظام کو بھی طاقتور کردیتی ہے کیونکہ ایک خصوصی پروٹینز انٹرفیرونز کی پروڈکشن بڑھتی ہے جو وائرسز کے خلاف لڑتا ہے۔اس تحقیق میں 4 اقسام کے ماسکس یعنی این 95 ماسک، 3 تہوں والا ڈسپوزایبل سرجیکل ماسک، 2 تہوں والا کاٹن پولیسٹر ماسک اور ہیوی کاٹن ماسک کی آزمائش کی گئی تھی۔محققین نے دریافت کیا کہ جب کوئی فرد ماسک پہنتا ہے تو اس کے ارگرد کے نمی کی سطح گھٹ جاتی ہے کیونکہ پانی کے بخارات ماسک کے اندر موجود رہتیہ یں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر ماسک درست طریقے سے چہرے پر فٹ ہوں تو چاروں اقسام کے ماسکس پہننے والوں کی سانس کے ذریعے اندر جانے والی ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔تاہم درجہ حرارت سے یہ اثر کم زیادہ ہوسکتا ہے، یعنی کم درجہ حرارت میں تمام ماسکس میں نمی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔محققین نے اس کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی کہ کونسا ماسک وائرس سے بچا کے لیے زیادہ مثر ہے۔تاہم اسی تحقیقی ٹیم نے کچھ عرصے پہلے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ کپڑے کا کوئی بھی ماسک منہ سے خارج ہونے والے ہزاروں ذرات کو بلاک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اس نئی تحقیق میں منہ سے خارج ذرات کا تجزیہ نہیں کیا گیا بلکہ مزید شواہد فراہم کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فیس ماسک کووڈ 19 کی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری کیوں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…