بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پٹرول 16 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)16 فروری سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اوگرا نے سمری 30 روپے فی لیٹر لیوی پر تیارکی ہے اورپیٹرول

16روپے فی لیٹر تک مہنگا کرنے کی تجویز دی ہے۔اوگرا سمری میں ڈیزل بھی14روپے 75 پیسے تک مہنگا کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 21 روپے 4 پیسے ہے اور ڈیزل پر موجودہ لیوی 22روپے11 پیسے فی لیٹر ہے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار روپے سے ساڑھے پانچ روپے تک اضافے کا امکان ہے۔ اوگرا نے ورکنگ پٹرولیم ڈویژن کو بھجوا دی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق 30 روپے لیوی کے حساب سے اضافے کی ورکنگ زیادہ بنتی ہے۔ حکومت کے پاس لیوی میں کمی سے قیمتیں برقرار رکھنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔اس سے قبل حکومت پانچ بار مسلسل پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کر چکی ہے اور اگر اس بار بھی اضافہ کیاجاتا ہے تو یہ اڑھائی ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چھٹی بار اضافہ ہو گا۔ یکم دسمبر سے اب تک پیٹرولیم مصنوعات 16 روپے 37 پیسے تک مہنگی کی گئی ہیں، ان اڑھائی ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 11 روپے 21 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، یکم دسمبر سے اب تک ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 64 پیسے فی لٹر اضافہ کیا جا چکا ہے،

اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 14 روپے 90 پیسے فی لٹر اضافہ کیا جا چکا ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 16 روپے 37 پیسے فی لٹر اضافہ کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ جیسے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی تناسب سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، اس طرح مہنگائی میں پستی عوام کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…