جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

این سی ڈیزموت کی سب سے بڑی وجہ قرار،عوام کو امراض سے بچانے کیلئے شوگری ڈرنکس بارے اہم فیصلے

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)عوام کوشوگری ڈرنکس کے استعمال سے پیدا ہونے والے امراض سے بچانے سے متعلق قانون اورپالیسی بنانے والے اداروں کے منتظمین وسماجی ماہرین پرمشتمل مشاورتی اجلاس منعقد ہوا،اس میںمیجرجنرل (ر) محمداشرف خان وپیٹرن (پناہ)کے ہمراہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل

سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے میربانی کے فرائض سرانجام دیے،جب کہ بطورمہمانان گرامی ڈائریکٹر نیوٹریشن منسٹری آف (این ایچ ایس آراینڈ سی) ڈاکٹربصیرخان اچکزئی،،کنسلٹنٹ فوڈپالیسی پروگرام (GHAI)منور حسین،نیشنل کواڈینیٹر نیوٹریشن ، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ڈی ،ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن ،ورلڈ بینک ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ،ایف بی آر،یونیسیف،ڈابیٹیز ایسوسی ایشن،سمیت سماجی تنظیموں کے نمائندگان ودیگرنے شرکت کی ۔ اجلاس کے آغاز میںپاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے مہمامان گرامی کاشکریہ اداکیااورکہاکہ پناہ 36سال سے عوام کودل سے جڑے امراض اورصحت مند زندگی گزارنے سے متعلق آگہی دے رہی ہے ،ہم بیماریوں کی روک تھام کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر قانون سازی میں بھرپور تعاون کرتے ہیں، اس کے ساتھ گلوبل ہیلتھ انکیوبیٹرز کے ساتھ مل کربیماریوں کی وجہ بننے والے عوامل کی نشاندہی میں بھی مصروف عمل ہیں،جدید تحقیق سے ثابت ہواکہ این سی ڈیز کی ایک بڑی وجہ شوگری ڈرنکس کاکثرت سے استعمال ہے،حال میں ہی جب عوامی رائے لی گئی تواس میں 72فیصدشہریوں نے شوگری ڈرنکس کی روک تھام کے لئے ٹیکس کے نافذکوموثر ذریعہ قرار دیا،ہمارامقصد فقط عوام کوشوگری ڈرنکس کے استعمال سے

پیدا ہونے والے جان لیواامراض دل ،ذیابیطس،کینسرسمیت دیگر سے بچاناہے،تاکہ عوام صحت مند رہے اورحکومت کے ریونیومیں بھی اضافہ ہو۔ بعدازاں اجلا س کے شرکاء نے شوگری ڈرنکس ،اس سے پیداہونے والے امراض اورٹیکس کے نفاذ سے رونماہونے والے مثبت اثرات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ شوگری ڈرنکس پر ٹیکس سے

متعلق 2019 کے تحقیقاتی تجزیہ نے ثابت کیاکہ ٹیکس کی مدد سے شوگری ڈرنکس کی کھپت کو ،بلکہ صحت پرمرتب ہونے والے مضر اثرات کوبھی کامیابی کے ساتھ کم کیاجاسکتاہے،وکی پیڈیا نے ایک مطالعہ کی مدد سے آگاہ کیاکہ جنوری 2014 میں میکسیکو میں 10 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا، جس کی وجہ سے شوگری ڈرنکس کی

کھپت میں ایک سال کے بعد 12 فیصد، برکلے کیلیفورنیا میں فی اونس فی صد ٹیکس نفاذ کرنے سے کھپت میں 9.6 فیصد سے 52 فیصد کے درمیان،فلاڈیلفیا میں 1.5 سینٹ فی اونس ٹیکس سے شوگری ڈرنکس کی فروخت میں 46 فیصد کمی واقع ہوئی۔2019 کے قومی تحقیقاتی بیورو کے اقتصادی تحقیق کے مقالے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ

شوگری ڈرنکس پر ٹیکس کانفاذعوامی فلاح و بہبود میں اضافہ کاسبب بنا۔کیری ڈائجسٹ( Kerry Digest)نے 8 فروری، 2021 کوریاست میں شوگر اینڈ ہیلتھ ٹیکس سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس میں واضح بتایاکہ دنیا کے زیادہ ترممالک شوگری ڈرنکس پر ٹیکس کے نفاذ کے حامی ہیں،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی 2015میں امراض

کی روک تھام اور کنٹرول برائے عالمی ایکشن پلان 2013–2020 (جی اے پی) کی اشاعت کے بعد، 20 سرکاری اداروں نے موٹاپا اور ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی سطح کو کم کرنے کے لئے میٹھے مشروبات (ایس ایس بی) پرٹیکس عائد کیا، 2018 کے وسط تک 39 ممالک، ریاستوں اور شہروں نے رضاکارانہ طورپر شوگری

ڈرنکس میں کمی لانے کے لئے ٹیکس لگایا،آج، اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، تقریبا 50 ممالک نے شوگری ڈرنکس کی کھپت کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹیکس نافذ کیا ۔شرکاء کہناتھاکہ شوگری ڈرنکس کااستعمال ہماری عادت بن چکی ہے ،اس کی روک تھام سے نہ صرف مہلک امراض سے نجات ملے گی ،بلکہ ٹیکس نافذکرکے اس

کی کھپت کوکم کیاجاسکے گا،اس موقع پرشوگری ڈرنکس کی روک تھام اورٹیکس کے نفاذ سے متعلق اپنانے والی حکمت عملی پرتجاویزکابھی تبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس کے اختتام پرمیجرجنرل (ر) وپیٹرن (پناہ) محمداشرف خان نے کہاکہ میں سب کانہایت مشکور ہوں کہ آپ سب نے عوام کے مفاد میں منعقدہ اجلاس میں خصوصی شرکت کی،مل کرکام کرنے سے مثبت نتائج برآمدہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…