بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نکاح رجسٹرڈ نہ کرانے پر سزا ،والد بالغ بچے کے خرچے کا پابند وفاقی کابینہ نے مسلم عائلی قوانین ترمیمی بل کی منظوری دیدی

datetime 9  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ نے مسلم خاندانی(عا ئلی ) قوانین (ترمیمی)بل 2020 کی منظوری دیدی ہے جسے اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جا ئے گا۔ روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی شائع خبر کے مطابق یہ بل مسلم خاندانی قوانین آرڈیننس 1961 پاکستان کا اہم ترین

اصلاحی قانون ہے جس میں مسلم شادیوں اور طلاق کی رجسٹریشن، کثرتِ ازدواجpolygamy، جانشینی successionاور بیوی بچوں کے نان ونفقہmaintenance جیسے موضوعات شامل ہیں،نکاح رجسٹرڈ نہ کرانے پر سزا، والد بالغ بچے کے خرچے کا پابند ہوگا، زائرین کومحافظ فنڈ سے مالی مدد دی جا ئیگی،اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ،یہ موضوع صوبوں کو منتقل ہوچکا ہے اور وفاقی حکومت صرف اسلا م آباد تک محدود ہے۔متعدد فورمزنے وقتاً فوقتا ًمذکورہ آرڈیننس میں ترمیم کی تجاویز پیش کی تھیں۔ لہذا مذکورہ ایکٹ میں ترمیم کیلئے ، وزارتِ مذہبی امور نے ، ICTکی حد تک ،مسلم خاندانی قوانین (ترمیمی)بل 2020 کے عنوان سے ایک سرکاری بل processکیا ہے۔ مذکورہ بل وزارتِ قانون و انصاف کی رائے کے مطابق مزید غور و خوض کے لئے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی CCLCمیں پیش کیاگیا ۔ CCLC نے مختصر ترمیم کے بعد وزارت مذہبی امور کے مجوزہ مسلم خاندانی قوانین(ترمیمی)بل

2020 کو وفاقی کابینہ میں منظوری کیلئے پیش کیا۔ بل کے مطابق موجودہ آرڈیننس کے کچھ سیکشنز میں درج جرمانے کی رقم کوبڑھایا جائیگا۔طلاق کی رجسٹریشن کے طریقہ کار میں بہتری لانا اور طلاق ِتفویض کے معاملات میں رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا ئے گا۔ نابالغ بچوں

کے نان نفقہ وغیرہ کیلئے ان کے والد کو پا بند کیا جا ئے گا۔ بل کے تحت نکاح رجسٹرڈ نہ کروانے کی صورت میں ایک تا تین ماہ قید یا 25 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں جرم کی نوعیت کے مطابق دی جا سکتی ہیں۔مسلمان مرد یا عورت طلاق تفویض کا حق استعمال کرنے کی

صورت میں 7 دن کے اندر اندر یونین کونسل کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کے پابند ہونگے ۔فریقین میں سے بغیر نوٹس کے طلاق دینے کی صورت میں یونین کونسل کو تحریری طور پر طلاق سے متعلق آگاہ کرنے کے پابند ہونگے۔ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی ،کم عمربچوں،معذور بچوں

اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کو مناسب نان و نفقہ مہیا کرنے میں ناکام رہتا ہے یا ایک سے زائدبیویوں کو یکساں نفقہ مہیا کرنے میں ناکام رہتا ہے) تو بیوی/ بیویاں اپنے اور دیگر کے نفقہ کیساتھ ساتھ کسی اور قانونی چارہ جوئی کیلئے بھی چیئرمین کودرخواست دے سکتی ہے/ہیں۔

چیئرمین اس معاملے کا تعین کرنے کیلئے ثالثی کونسل تشکیل دے گا ،جو اس رقم کی تقرری کیلئے ایک سرٹیفکیٹ جاری کریگی جو شوہر کو بطور نفقہ اداکرنی پڑے گی۔طلاق کے بعداگر بیوی اپنے دودھ پیتے بچے کو دودھ پلانا جاری رکھتی ہے تو وہ اس مدت تک کیلئے منا سب قیمت کی حقدار

ہو گی لیکن یہ مدت دو سال سے زیادہ نہ ہو۔علاوہ ازیں و فاقی کابینہ نے زائرین مینجمنٹ پالیسی کی منظوری دیدی ،یہ پالیسی اب عمل درآ مد کیلئے تیار ہے ۔ ذ رائع کے مطابق یہ پالیسی اس لئے تیار کی گئی ہے کہ ایران ، عراق اور شام کے مقدس مقامات کے زائرین کے لئے کوئی باقاعدہ فریم ورک موجود نہیں ہے جس کے باعث زائرین کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔ پالیسی کے مطابق زائرین کے سیکورٹی انتظامات متعلقہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوگی۔ ذرائع نقل و حمل کی تنوع ، یعنی روڈ ، ایئر اور فیری خدمات کی ترغیب دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…