بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف اور مریم نواز کے مؤقف کے ساتھ چلنا مشکل ہے،کھربوں روپیہ کہاں سے آئے گا؟ اعتزاز احسن مریم نواز اور فضل الرحمان کیخلاف کھل کر بول پڑے

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)معروف قانون دان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ اور استعفی کوئی آپشن نہیں ہے،نوازشریف اور مریم نواز کے مؤقف کے ساتھ چلنا مشکل ہے،نوازشریف بغیر گارنٹی کے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دھرنے

اور احتجاجی تحریک چلانے کیلئے کھربوں روپے چاہئیے ہوتے ہیں،دھرناکہنا آسان ہے مگر پیسہ کہاں سے آئے گا،تمام مراحل صبر آزما ہیں،31جنوری تک حکومت ختم ہوجائے گی کہنا درست طریقہ نہیں ہے،ڈیڈ لائن دینا صحیح نہیں ہے،آپ نے بیان دیا کہ پنڈی میں دھرنا دیں گے،آپ کہتے ہیں کہ پنڈی والوں سے ہماری جنگ نہیں ہے،ہماری جنگ حکمرانوں سے ہے،بلاول بھٹو زرداری نے آئینی بنیادوں پر تحریک عدم اعتماد کی تجویز دی ہے،حکومت خود ہی ختم ہورہی ہے۔مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کی تحریک عدم اعتماد کی مخالفت سمجھ نہیں آتی ہے،استعفی کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کو سندھ تحفہ میں دے دینا،کیا سندھ حکومت وفاق کو ہم گفٹ کردیں،مریم نواز کے استعفوں لانگ مارچ اور حکومت گرانے کی ڈیڈ لائن سمجھ سے بالاترہے،آپ نے پنڈی میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا،پنڈی میں دھرنے کا مطلب ہے کہ جی ایچ کیو کے خلاف دھرنا دینا ہے،میثاق جمہوریت میں طے ہوا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کے ذریعہ انتخابات ہونے چاہئیں،اس کی دستاویزات میں طے پایا تھا۔پی پی پی حکومتی آئینی ترمیم کی حمایت کرنا چاہئے،اس ترمیم کو سب جماعتوں کو سپورٹ کرنا چاہئے،آئین کے تحت سینیٹ انتخابات میں پارٹی کی منشاء سے سیٹ کرکے کسی امیدوار کو ووٹ دینے سے کوئی ممبر نااہل

نہیں ہوتا۔ حکومت لانگ مارچ یا دھرنے سے متاثر نہیں ہوگی،ن لیگ اور پی پی پی نے میثاق جمہوریت میں معاہدہ کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعہ کرائے جائیں،پی ڈی ایم اور میری جماعت کو میثاق جمہوریت کا احترام کرنا چاہئے،پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کو تسلیم کرنا چاہئے۔وزیراعظم کے

خلاف تحریک عدم اعتماد ہی بہترین حل ہے۔پی ڈی ایم اور میری جماعت کو میثاق جمہوریت کے تحت سینیٹ انتخابات کو اوپن بیلٹ کے ذریعہ کرانے کی حمایت کرنی چاہئے،تاریخیں بیانات اور ڈیڈ لائنز سے حکومتیں نہیں جاتیں۔انہوں نے کہ ہے کہ میثاق جمہوریت کے تحت پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…