کراچی (آن لائن)ملک میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے بجلی کی پیداوار کے آغاز اور وزیر اعظم عمران خان کے تعمیراتی صنعت کے ذریعے معیشت کی بحالی کے ویژن کی بدولت کوئلے کی طلب میں استحکام کا رجحان رواں سال جاری رہے گا۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں اور کیپٹیو پاور پلانٹس چلائے جانے کی وجہ سے کوئلے کی طلب میں 2021میں بھی نمایاں اضافہ کا رجحان برقرار رہے گا۔
ذرائع کے مطابق چائنا حبکو، ساہیوال اور پورٹ قاسم الیکٹرک کے لیے سالانہ 10سے 12ملین ٹن کوئلہ درآمد کیا جائے گا۔ نیپرا کے مطابق سال 2020کے دوران پاکستان کے انرجی مکس میں کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا تناسب 21فیصد تک پہنچ گیا۔ دوسری جانب سیمنٹ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیمنٹ کی طلب بڑھنے سے کوئلے کی طلب میں 2021کے دوران موجودہ 20ملین ٹن کی سطح سے 30سے 40فیصد اضافہ کا اندازہ لگایا گیا ہے جبکہ ملک کے معروف کاروباری گروپ کے تحت لگائے جانیو الے کوئلے پر مبنی پاور پلانٹ سے پیداوار کا آغاز بھی کوئلے کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت سیمنٹ کی طلب میں اضافے کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیمنٹ سیکٹر نے اپنی پیداواری استعداد بھی بڑھانا شروع کردی ہے۔ ملک میں کوئلے کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں پاکستان میں ماحول دوست طریقے سے بلک ڈرٹی کارگو ہینڈل کرنیو الا واحد ٹرمینل پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ٹرمینل کے چیف فنانس آفیسر ارسلان افتخار خان کے مطابق 2020کے دوران ٹرمینل پر کوئلے کی ہینڈلنگ کا حجم 8.994 ملین ٹن سے بڑھ کر 9.496 ملین ٹن رہا۔ نئے سال کے آغاز سے ہی کوئلے کی درآمد کے حجم میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور جنوری میں 7سے 8لاکھ ٹن کوئلے کی درآمد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ درآمد کیے جانے والے کوئلے میں سیمنٹ سیکٹر کا حصہ 55فیصد، پاور پلانٹس کا حصہ 20فیصد، جبکہ ٹیکسٹائل، ربر اور دیگر انڈسٹریز جو کوئلے کو بطور ایندھن استعمال کرتی ہیں درآمدی کوئلے میں 25فیصد کی حصہ دار ہیں۔ پی آئی بی ٹی نے دسمبر 2020کے مہینے میں ریکارڈ 1.04ملین ٹن کوئلہ ہینڈل کیا جو دسمبر 2019کے مقابلے میں 32فیصد زائد رہا۔ دسمبر 2020ٹرمینل کے قیام کے بعد پہلا مہینہ تھا جس میں 10لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ ہینڈل کیا گیا۔ پی آئی بی ٹی جدید سہولتوں سے آراستہ بلک ہینڈلنگ کی سہولت ہے جو پورٹ قاسم پر قائم ہے جہاں کوئلہ، کلنکر اور سیمنٹ کارگو ہینڈل کیا جاتا ہے۔ یہ ٹرمینل بلٹ آپریٹ ٹرانسفر کی بنیاد پر 2017کے وسط میں 30کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جون 2018میں درآمدی کوئلے کی ہینڈلنگ کراچی پورٹ سے پورٹ قاسم منتقل کی گئی جس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا، پی آئی بی ٹی کے ریونیو کا 35فیصد پورٹ قاسم کو ادا کیا جاتا ہے۔



















































