جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے 3 دعویدار سامنے آ گئے

datetime 1  فروری‬‮  2021 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے 3 دعویدار سامنے آ گئے، گزشتہ برس کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باوجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں ملے گی اور وہ قومی خزانے میں

جمع کروا دی جائے گی۔ ترجمان ایئرلائن نے تصدیق کر دی۔ موقر قومی اخبار روزنامہ جنگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 22مئی 20120ء کو پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پر کریش کرگئی جس میں 95قیمی جانوں کا ضیاع ہوا۔ طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جو کچھ ادھ جلی بھی تھی۔ اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔ مگر کچھ ماہ بعد غالباً تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہوگئے جبکہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ سرٹیفکیٹ طلب کیے گئے جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے نمائندہ ”جنگ“ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…