پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مردانہ بانجھ پن میں تشویشناک اضافہ، ممکنہ اسباب سامنے آگئے

datetime 29  جنوری‬‮  2021 |

نیو یارک(این این آئی) امریکا کی مشہور تولیدی ماہر شانا سوان نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر مصنوعی کیمیائی مرکبات کے استعمال سے مردانہ بانجھ پن میں تشویشناک اضافہ ہوچکا ہے لیکن سرکاری پالیسی سازوں اور کثیر قومی اداروں سمیت، کوئی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔شانا سوان کی شراکت میں ایک اہم تحقیق جولائی 2017 میں شائع ہوئی تھی جس میں 1973 سے 2011 کے

دوران مغربی ممالک میں تولیدی صحت سے متعلق کیے گئے 185 مطالعات کا ازسرِنو تجزیہ (میٹا اینالیسس) کیا گیا تھا۔اس تجزیئے سے انکشاف ہوا کہ 48 سال کے اس عرصے میں مردانہ نطفوں کی تعداد (اسپرم کاؤنٹ) میں 59 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ کمی یہ سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ عورت کے حمل ٹھہرنے میں مردانہ نطفوں کی تعداد خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے صحت مند نطفوں میں کمی کو ’مردانہ بانجھ پن‘کے اہم اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔شانا سوان کا کہنا ہے کہ تھالیٹس اور بسفینول اے  کہلانے والے کیمیائی مرکبات کا مردانہ بانجھ پن سے واضح تعلق سامنے آیا ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔بتاتے چلیں کہ ’تھالیٹس‘ اور ’بسفینول اے‘ قسم کے مصنوعی مرکبات کو پلاسٹک کی ان گنت مصنوعات کے علاوہ صابن، شیمپو، نیل پالش، مختلف کاسمیٹکس، فوڈ پیکیجنگ اور دیگر عام مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔تاہم مصنوعی مرکبات کے مضر اثرات صرف مردانہ قوتِ تولید تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ لڑکیوں اور خواتین کے بانجھ پن میں بھی اضافے کی ممکنہ وجہ بن رہے ہیں۔علاوہ ازیں ’تھالیٹس‘ اور ’بسفینول اے‘ سے ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما بھی متاثر ہوسکتی ہے جس سے بچوں میں پیدائشی نقائص بڑھنے کا امکان شدید تر ہوجاتا ہے۔شانا سوان نے خدشہ ظاہر کیا کہ جب کبھی کم تر نطفے بنانے والے مرد، باپ بنتے ہیں تو ان کی یہ خرابی اگلی نسل کو بھی منتقل ہوجاتی ہے۔اس اہم نکتے پر پالیسی سازوں اور میڈیا کی عدم توجہی دیکھتے ہوئے شانا سوان نے مسلسل بڑھتے ہوئے بانجھ پن (بالخصوص مردانہ بانجھ پن) پر اب تک ہونے والی قابلِ ذکر تحقیقات اور خدشات کو یکجا کرکے، قدرے عام فہم زبان میں ’’کاؤنٹ ڈاؤن‘‘ نامی کتاب کی شکل دے دی ہے جو متوقع طور پر 23 فروری سے فروخت کیلیے پیش کردی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…