منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

میں نے اپنے گھر کی چھت پر ہوائی فائرنگ کی تھی ،پولیس نے مجھے ڈکیت بنا دیا ،کچہری میں ملزم نے چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیا

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)ضلع کچہری میں ملزم نے چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیا ،ملزم ڈکیت نہیں صرف اپنے کی گھر کی چھت سے ہوائی فائرنگ کرنے کی دھائی دیتا رہا۔تفصیلات کے مطابق سی آئی اے نواں کوٹ پولیس نے دو ملزمان کو چہرے پر نقاپ پہنا کر ضلع کچہری میں پیش کیا ،ملزمان اس وقت حیران و پریشان ہوئے جب پولیس

نے کچہری میں عملے کو بتایا یہ ڈکیت ہیں، ملزم عثمان نے عدالت میں رونا شروع کر دیااور لوگ جمع ہو گئے، ملزم کاکہنا تھا مجھے پولیس کے ظلم سے بچایا جائے، ملزم عثمان نے کہا میں نے اپنے گھر کی چھت پر ہوائی فائرنگ کی تھی ،پولیس نے مجھے ڈکیت بنا دیا ہے۔اب پتہ چلا مجھے ڈکیت کی طرح نقاب لگا کر کیوں پیش کیا ہے،ملزم کاکہنا تھا ہم خاندانی لوگ ہیں چور ڈکیت نہیں ہمارا نواں کوٹ میں کرائے پرگاڑیوں کاکاروبار ہے، اسی طرح شیرا کوٹ تھانے سے گرفتار ملزمرفیق کا کہنا تھا میں لیگ کا سابق لیبر کونسلر ہوں ڈکیٹ نہیں مجھے پھنسایا گیا ہے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا ملزمان ڈکیت ہیں ملزمان کی شناخت پریڈ کے لئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔جوڈیشل مجسٹریٹ محمد یوسف عبد الرحیم نے ملزمان کو سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔دوسری جانب ڈسڑکٹ پولیس آفیسر بلال ظفر کی زیر صدارت ڈ ی پی او آفس میں کرائم میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ میںایس پی انوسٹی گیشن میڈم کوثر پروین، ڈی ایس پی صاحبان ، ایس ایچ او اور ڈی پی او دفتر کے افسران نے شرکت کی ۔ دوران میٹنگ ضلع میں امن و امان کی صورتحال،کرائم،زیر تفتیش سنگین مقدمات کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا اور کارکردگی بابت گرفتاری مجرمان اشتہاری و عدالتی مفروران چیک کی گئی ۔ڈی پی او نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

امن و امان کا قیام،لوگوں کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح،اس سلسلہ میں تمام ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔زیرتفتیش مقدمات کو جلد از جلد میرٹ پر یکسو کیا جائے۔تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سنگین مقدمات میں مطلوب مجرمان اشتہاریوں کی گرفتاری کو یقینی بنایاجائے۔تھانہ چوکیات،دفاتر میں آنے والے لوگوں کیساتھ

اچھے اخلاق سے پیش آئیں اورا نکی دادرسی کو یقینی بنایا جائے۔ٹائوٹ مافیا کی حوصلہ شکنی کی جائے اور انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔کسی بھی تھانہ میں کوئی بندہ غیر قانونی حراست میں نہیں ہونا چاہیے۔۔جرائم پیشہ عناصر کیخلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے۔ ریکارڈ اپ ٹو ڈیٹ رکھا جائے ۔جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے بہتر حکمت عملی سے گشت کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…