اسلام آباد(نیوزڈیسک )یوں تو نیند کی گولیوں کے بہت سے نقصانات سامنے آتے رہتے ہیں، مگر اب تو ماہرین نے اسے کینسر جیسے مہلک مرض کا سبب بھی قرار دے دیا ہے۔ جی ہاں ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں نیند کی گولیاں استعمال کرنے والے لاکھوں افراد کینسر اور ٹیومر جیسی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیںتحقیق کے مطابق مستقل بنیادوں پر خواب آور گولیوں کا استعمال صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے، اس سے جسم میں مخلتف اقسام کے انفیکشن پیدا ہوسکتے ہیں، جو کینسر سیلز کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اسٹڈی کے دوران نیند کی گولیاں استعمال کرنے والے30 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ اس سے پھیپھڑوں، منہ، ناک اور سانس کی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو خواب آور ادویات کا استعمال زیادہ مقدار اور طویل عرصے تک کرتے ہیں، ان میں بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ہفتے میں کم از کم 2 بار نیند کی گولیاں کھاتے ہیں۔
خواب آورگولیاں منہ ،ناک اورپھیپھڑوں کے کینسرکاسبب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...
-
فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا



















































