پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

امریکی مسلمان عیسائی کلیسا کے پاسبان بن گئے

datetime 10  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکا میں رواں ماہ صیام کے دوران امریکی مسلمانوں نے مساجد اور امام بارگاہوں کے لیے نہیں بلکہ عیسائی عبادت گا ہوں اور کلیساوں کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سیاہ فام امریکی صدر کے دیس میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاہ فام عیسائیوں کے چرچوں پر حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے علاوہ بعض چرچ قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہوئے۔ ان کی تعمیرو مرمت کے لیے عیسائی آبادی کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں نے بھی حصہ بہ قدر جثہ شمولیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے چند ہفتوں کے دوران امریکا میں سیاہ فاموں کے چھ چرچ متاثر ہوئے۔ ان میں ایک چرچ پر17 جون کو ایک شدت پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چرچ میں موجود نو سیاہ فام عبادت گذار ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا تھا۔ ۔ماہ صیام کے آغاز میں ریاست کیرولینا کی ایک مسلمان خاتون فاطمہ امہ اللہ نایت نے Launch Good کے نام سے چرچوں کی تعمیرو مرمت کے لیے ایک فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے 23 سالہ فاطمہ خود اسی ریاست کی ایک یونیورسٹی میں علم لاھوت کی طالبہ ہیں۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے 10 ہزار ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ وہ پورا ہونے کے بعد 50 ہزار ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے۔ جمعرات تک اس میں 30 ہزار ڈالر جمع ہوچکے تھے۔رپورٹ کے مطابق فاطمہ کی فنڈ ریزنگ مہم کا مقصد قدرتی آفات یا دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چرچوں کی بحالی ہے اور ان کی تعمیر نو ہے۔ چونکہ کچھ عرصے سے امریکا میں سیاہ فاموں کے کئی چرچوں کو یا قدرتی آفات کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے یا وہ انتہا پسندی اور مذہبی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کچھ روز قبل ریاست کیرولینا کے “گریلفیل” شہر میں واقع افریقی چرچ” جبل صہیون” میں خوفناک آتش زدگی ہوئی تھی جس کے نتیجے چرچ جل کر خاکستر ہو گیا تھا۔ اس آتشزدگی نے 20 سال قبل اسی علاقے میں انتہا پسند تنظیم Klan Klux Ku کے شدت عیسائیوں کے ہاتھوں چرچ کو جلائے جانے کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چرچوں کی تعمیرومرمت کے فنڈ ریزنگ میں حصہ لینے والی خواتین میں ایک فلسطینی سماجی کارکن بھی پیش پیش ہیں۔ فلسطینی سماجی کارکن لیندا صرصور امریکا میں کئی دوسری مہمات میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے امریکا میں چرچوں کی تعمیر ومرمت کے لیے جاری فنڈ ریزنگ مہم محض ایک مالی معاونت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ مسلمان صرف تخریب کار ہی نہیں بلکہ تعمیر کرنے میں مدد دینے والے بھی ہیں۔ مسلمان تو ان عبادت گاہوں کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں جنہیں امریکیوں نے برباد کیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…