منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سی ڈی اے کا این ایچ اے کو خط نامکمل میٹرو بس منصوبے کا انتظام سنبھالنے سے انکار وزیر اعظم عمران خان کی خواہش کو بھی نظر انداز کردیا

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے، نامکمل میٹرو بس منصوبے کا انتظام سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے ۔وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے ) نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سے درخواست کی ہے کہ پشاور موڑ سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک

میٹرو بس ٹریک پر بقیہ کام مکمل کرنے کے بعد اسے شہری ادارے کو دیا جائے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے 8 جنوری کو ایک خط میں این ایچ اے کو کہا کہ ‘ادارے کی جانب سے منصوبے کی تکمیل کا جائزہ لینے کے لیے 7 جنوری کو سائٹ کا دورہ کیا گیا تا کہ این ایچ اے سے منصوبہ لینے کے لیے معائنہ کمیٹی تشکیل دینے کے لیے اتھارٹی سے بات چیت کی جاسکے۔خط میں مزید کہا گیا کہ ‘ اس سے پہلے این ایچ اے اس منصوبے کو لے کر اسے سی ڈی اے کے حوالے کرے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہاں ٹھیکیداروں کی جانب سے ابھی کافی کام کیا جانا باقی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ سی ڈی کو یہ منصوبہ دینے سے قبل این ایچ کو یہ تفصیلات فراہم کرنا یقینی بنانا ہوگا جس میں تعمیراتی ٹھیکیداروں سو سرٹفکیٹس، ٹینڈر ڈرائنگز (اصلی)، تعمیری ڈرائنگ، این ایچ اے کی معائنہ کمیٹی کی رپورٹ، مقدار کا حتمی بل، ڈیزائن میں کی گئی تبدیلیاں اور ان کی وجوہات، میٹرو بس آپریزن کے ساتھ ساتھ منصوبے کی خامیاں اور

منصوبے میں استعمال ہونے والا سامان اور اثاثے شامل ہیں۔ذرائع نے کہا کہ این ایچ اے نے سی ڈی اے کو منصوبے کا انتظام سنبھالنے کا خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 15 جنوری کو وزیراعظم ہاؤس میں منصوبے کی سافٹ لانچنگ کرنا چاہتے ہیں،

تاہم سی ڈی اے حکام نے کہا کہ ادارے نے ایک نامکمل منصوبہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ادارے کو 30 بسوں کی خریداری، ٹریک پر ٹکٹنگ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرنے کے لیے ایک ارب 90 کروڑ روپے مالیت کا منظورہ شدہ پی سی 1 بھی مل چکا ہے۔ ذرائع کا.

کہنا تھا کہ سی ڈی اے بسوں کی خریداری کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے نے حکومت سے تحریری طور پر فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔این ایچ اے نے پشاور موڑ سے اسلام آباد ایئرپورٹ تک 25.6 کلومیٹر

طویل ٹریک تعمیر کرنے کا منصوبہ جنوری 2017 میں شروع کیا تھا جسے اگست 2018 میں مکمل ہونا تھا۔این ایچ اے حکام کا کہنا تھا کہ منصوبہ تقریباً مکمل ہے اور فنِشنگ ٹچز جیسا کہ بجلی کا کام جلد مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سست روی سے فنڈز کے اجرا کی وجہ سے منصوبے میں معمولی تاخیر ہوئی لیکن این ایچ اے کی موجودہ انتظامیہ نے اس پر تیزی سے کام کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…