منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے یکساں ٹوکن ٹیکس ،رجسٹریشن فیس کم کرنے کیلئے بھی اہم اقدام

datetime 16  جنوری‬‮  2021 |

مکوآنہ/ جڑانوالہ(این این آئی )پنجاب حکومت نے چاروں صوبوں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے یکساں ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چاروں صوبوں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئے یکساں ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کم

کر دی جائے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مراسلے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شہری گلگت اور دیگر صوبوں میں ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن فیس کم ہونے کی وجہ سے وہاں اپنی گاڑیاں رجسٹر کراتے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس زیادہ ہونے سے گاڑیاں رجسٹر نہیں کرائی جاتیں۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس انتہائی کم ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ فیس میں مذکورہ فرق کو ختم کرکے پورے ملک میں یکساں فیس مقرر کی جائے۔واضح رہے کہ ٹیوٹا پنجاب اورڈائس فاؤنڈیشن یو ایس کے اشتراک سے اب پاکستان میں الیکٹرک کاریں بنیں گی، ٹیوٹا کے زیر اہتمام بنائی جانے والی الیکٹرک گاڑی 2023 میں لانچ کی جائے گی۔پاکستان کی 73سالہ تاریخ میں پہلی بار آٹو موبائل انڈسٹری میں کامیابی، ٹیوٹا پنجاب جدید ٹیکنالوجی اور فیچرز سے مزین الیکٹرک کار بنانے جارہاہے، جس کی ہر چیز پاکستان میں ہی ڈیزائن ہوگی۔ایم او یو پر چیئرمین ٹیوٹاعلی سلمان صدیق اور ڈائس فاونڈیشن کے چیئرمین خورشید نے دستخط کیے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کاکہناتھاکہ انڈسٹری میں ٹیکنالوجی کے باعث ہی ملک ترقی کر سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب درست سمت میں جا کر روشن منزل کی جانب رواں دواں ہوں گے۔چیئرمین ٹیوٹاعلی سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ الیکٹرک کار بنانے سے طلباء کو تربیت اور بین الاقوامی اداروں میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…