منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج میں بلاول بھٹو کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 15  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کے الیکشن کمیشن سامنے احتجاج میں بلاول بھٹو زرداری نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج میں شریک نہیں ہونگے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پر سوال اٹھا یا گیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ شرکت نہیں کریں گے اس پیچھے پی ڈی ایم سے

بیزاری یا پھر اسلام آباد جانے سے گریز ہے ۔ پی پی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری 18جنوری کو سکھر مین ایک تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ 19جنوری کو عمر کوٹ کا دورہ کریں گے جبکہ اس کے بعد پی ڈی ایم کے 23جنوری کےسرگودھا جلسے میں شرکت کریں گے ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی ناہلی و نالائقی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔جب دیکھو، سلیکٹڈ حکمران بجلی اور پئٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تیاریوں میں لگے ہوتے ہیں۔جیالے یقینی بنائیں، سندھ میں ضمنی انتخابات پر کوئی ڈاکہ نہ ڈال سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کو پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اور جنرل سیکرٹری وقار مہدی سے ملاقات میں کیا ۔نثار کھوڑو اور وقار مہدی نے پارٹی چیئرمین کو صوبے میں سیاسی و تنظیمی صورتحال، ضمنی انتخابات اور پی ڈی ایم کی تحریک پر بریفنگ دی۔نثار کھوڑو نے بلاول بھٹو زرداری کو کو 9 فروری کو حیدرآباد میں منعقدہ پی ڈی ایم کے پروگرام کے لیئے جاری تیاریوں پر بریف کیا۔وقار مہدی نے بتایا کہ کراچی میں یو سی اور وارڈ سطح پر تنظیم ساز کا عمل بہت جلد مکمل ہو جائے گا۔ ملیر، جنوبی اورغربی کے تین اضلاع میں تنظیمی عہدوں کے امیدواران کے انٹرویوز کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔انہوںنے پارٹی چیئرمین کو بتایا کہ ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کی کامیابی واضح ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اسٹیل ملز اور پی آئی اے کے ملازمین کے ساتھ ہے، ناجائز حکمران کو من مانی کرنے نہیں دیں گے۔پی ڈی ایم کی تحریک ملکی نظام میں موجود بنیادی خرافات کے خاتمے کے لیئے فیصلہ کن معرکہ ہے۔دریں اثناء ملیر سے منتخب رکن سندھ اسمبلی راجہ عبدالرزاق نے بھی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ۔انہوںنے پارٹی چیئرمین کو ملیر کی سیاسی صورتحال اور ضمنی انتخابات کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔بلاول بھٹو نے کہاکہ ملیر اور پیپلز پارٹی لازم و ملزوم ہیں، ملیر میں ترقی حکومتِ سندھ کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی کا قلعہ ہونے کی پاداش میں مشرف کے دورِ آمریت میں ملیر کو دیوار سے لگایا گیا تھا۔یقین ہے، ملیر کے عوام پی ایس-88 پر ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر تاریخی کامیابی دلائیں گے۔‎



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…