جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ سے شروع ہونے والا وائرس 50 ممالک تک پھیل گیا، ڈبلیو ایچ او نے نیا وائرس پیدا ہونے کا امکان ظاہر کر دیا

datetime 15  جنوری‬‮  2021 |

نیویار ک (آن لائن) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تصدیق کی ہے کہ دسمبر 2020 میں یورپی ملک برطانیہ سے شروع ہونے والا نیا کورونا وائرس دنیا کے دیگر 50 ممالک تک بھی پھیل چکا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے جنوبی افریقہ سے

بھی گزشتہ برس کے آخر میں شروع ہونے والا کورونا کا نیا وائرس 20 ممالک تک پھیل چکا۔ دنیا میں جتنا تیزی سے سارس کوو- 2 وائرس پھیلے گا، اتنے ہی نئے وائرس پیدا ہونے کا امکان ہے۔سارس کوو-2 نامی وائرس کورونا کا سبب بنتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق مذکورہ وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے اس بات کے امکانات ہوتے ہیں کہ اس ہی وائرس سے نیا وائرس بھی پیدا ہو۔عالمی ادارہ صحت نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والے نئے وائرسز کی طرح جاپان میں حال ہی میں دریافت ہونے والے تیسرے وائرس کے پھیلنے کا بھی امکان ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق برطانیہ میں پہلی بار 14 دسمبر جب کہ جنوبی افریقہ میں 18 دسمبر 2020 کو نئے کورونا وائرس کی دریافت ہوئی۔اسی طرح جاپان میں تیسرے کورونا وائرس کی دریافت تین دن قبل 11 جنوری کو ہوئی، جس سے متعلق اب عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔برطانیہ میں دریافت ہونے والے کورونا کے نئے وائرس کو وی یو آئی 202012/01 یا لائنیج بی 117 کا نام دیا گیا تھا جو دراصل دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والے وائرس کی تبدیل شدہ شکل ہے۔جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والے وائرس کو 501.V2 کا نام دیا گیا ہے اور یہ بھی پہلے

وائرس کی تبدیل شدہ تیزی سے پھیلنے والی شکل ہے۔تین دن قبل جاپان میں دریافت ہونے والی نئی قسم کو بی 1.1.248 کا نام دیا گیا ہے اور اس میں کم از کم 12 میوٹیشنز موجود ہیں۔ان میں سے ایک میوٹیشن برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی موجود ہے، جس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ جاپان میں دریافت قسم بھی ممکنہ طور پر زیادہ متعدی ہوسکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جاپان میں ابتدائی طور پر نئی قسم کو 9

جنوری کو نوٹ کیا گیا اور جن افراد میں کورونا کی نئی قسم پائی گئی، وہ لاطینی امریکی ملک برازیل سے سفر کرکے ا?ئے تھے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق برازیل سے سفر کرکے آنے والے افراد میں کورونا کی نئی قسم دریافت ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ برازیل میں بھی نئی قسم پھیل رہی ہے یا موجود ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نئی اقسام کی وائرسز دریافت ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو وبا کی تشخیص اور اس سے تحفظ کے لیے جدید اور تیز سائنسی انداز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…