منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزراء کی مراعات بڑھانے کیلئے نیا بل تیار، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل بھی اب حکومت ادا کرے گی

datetime 12  جنوری‬‮  2021 |

پشاور(نیوز ڈیسک+این این آئی)وزراء کی مراعات بڑھانے کے لئے بل تیار کر لیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے وزراء کے بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل بھی حکومت دے گی، خیبرپختونخوا کے وزراء کی مراعات بڑھانے کے لیے بل تیار کر لیا گیا ہے،تنخواہ اور الاؤنس کا ترمیمی بل 2021 اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ایکٹ کے تحت

سرکاری گھر رکھنے والے وزراء کے بجلی،گیس اور ٹیلیفون کے بل حکومت ادا کرے گی۔دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے رواں ترقیاتی سال کی پہلے چھ مہینوں میں ریکارڈ 345 ارب روپے کی لاگت کے 198 نئی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی ہے۔مذکورہ منصوبوں پر میڈیا بیان جاری کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے پہلے چھ ماہ میں ضم اضلاع کے لئے 106 جبکہ دیگر اضلاع کے لئے 92 نئیس ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی سربراہی میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 21-2020 کا ششماہی جائزہ اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ششماہی جائزہ اجلاس تین دن جاری رہے گا، اگلے ہفتے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو بریفنگ دی جائے گی۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے ریمارکس دیئے کہ رواں ترقیاتی سال کے پہلے چھ مہینوں میں تمام محکموں کو 109 ارب روپے جاری کئے گئے جس کا 38 فیصد استعمال میں لایا جا چکا ہے جبکہ وزیراعلی کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں سست روی برتنے والے محکموں کی سخت سرزنش،

کارکردگی تیز کرنے اور معیار بہترین رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 231 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس سال عنقریب مکمل ہونے والے چند قابل ذکر پراجیکٹس کا ذکر کرتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ اس سال عنقریب مکمل ہونے والے

پراجیکٹس میں 77 کروڑ کی لاگت سے لکی مروت میں کیڈٹ کالج کا قیام، 2 ارب 50 کروڑ کی لاگت سے ضلع کُرم میں علی زئی اور صدہ گرڈ سٹیشن جبکہ اورکزئی میں غلجو گرڈ سٹیشن کی 66KV سے 132KV پر اپ گریڈیشن، 2 ارب کی لاگت سے ضم اضلاع میں بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنانا، 3 ارب 67 کروڑ کی لاگت سے

ضم اضلاع میں ریسکیو 1122 کا قیام، 52 کروڑ کی لاگت سے 12 کلومیٹر سکرہ سے گبین جبہ روڈ، 2 ارب 20 کروڑ کی لاگت سے 35 کلومیٹر منگلور سے مالم جبہ روڈ کی تعمیر، 98 کروڑ کی لاگت سے ضم اضلاع میں کچرا اٹھانے کے لئے گاڑیوں اور آلات کی فراہمی، 1 ارب کی لاگت سے دریائے کابل کے کنارے حفاظتی پشتے

اور 1 ارب 24 کروڑ کی لاگت سے ہری پور میں گڈوالیاں ڈیم کی تعمیر شامل ہے۔معاون اطلاعات کامران بنگش نے دیگر رواں منصوبوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں میں قابل ذکر 5 ارب کی لاگت سے کینسر مریضوں کی مفت علاج کی سکیم، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژنوں میں سیاحتی مقامات پر 4 ارب روپے سے زائد

کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر، 5 ارب روپے کی لاگت سے ہری پور بائی پاس روڈ، 9 ارب کی لاگت سے صوبہ بھر میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، ساڑھے 5 ارب کی لاگت سے ایک ہزار کھیلوں کی سہولیات کے مراکز، 3 ارب کی لاگت سے ضم اضلاع میں یوتھ ڈیویلپمنٹ پیکج اور 4 ارب کی لاگت سے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے

لئے علاقائی ترقیاتی پروگرام کی سکیم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سوات ایکسپریس وے کا دوسرا مرحلہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 4 ارب کی لاگت سے غریب پرور سکیم ERKP پراجیکٹ جس کے تحت پہلے ہی 2013 سے اب تک 6 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…