جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

’وائرس سے بہرے پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے‘

datetime 10  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانوروں میں بہرے پن کا علاج کر کے انسان میں بہرے پن کی کچھ اقسام کے علاج کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔بچوں میں بہرے پن کے تقریباً نصف معاملات میں وجہ ان کے ڈی این اے میں موجود خرابی ہوتی ہے۔سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک وائرس اس جینیاتی خرابی کو دور کر سکتا ہے اور قوتِ سماعت کسی حد تک بحال کی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ دس برس میں بہرے بچوں کا علاج شروع ہو سکتا ہے۔امریکی اور سوئس سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں توجہ کان کے اندر موجود ان بالوں پر دی جو آوازوں کو ایسے برقی سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جو دماغ سمجھ سکتا ہے۔تاہم ہمارے ڈی این اے میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ یہ بال برقی سگنل پیدا کرنے میں ناکام رہیں جس کی وجہ سے ہم سن نہیں پاتے۔ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر ہی پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔اس وائرس کا تجربہ ایک بہرے چوہے پر کیا گیا جو تجربے سے پہلے راکٹ فائر کیے جانے کی آواز سننے سے بھی قاصر تھا۔
وائرس داخل کیے جانے کے بعد اس کی قوتِ سماعت میں قابلِ ذکر بہتری آئی تاہم وہ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔اس ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر جیفری ہولٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔‘محققین کی ٹیم ابھی اس وائرس کے انسانوں پر تجربے کے لیے تیار نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ اس طریقۂ علاج کے دیرپا اثرات دریافت کیے جا سکیں۔اس وائرل علاج سے کان کے بالوں کے اندرونی خلیوں میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور بیرونی خلیے ویسے ہی رہتے ہیں۔
یہ اندرونی خلیے ہی ہیں جو آواز سنائی دینے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بیرونی خلیے آوازوں کی حساسیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…