بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کا ایٹم بم اگر قیامت تک بھی پڑا رہے تو ناکارہ نہیں ہو سکتا، زبردست انکشاف 

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ایٹم بم نہ بناتا تو پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا۔ ہم ایٹمی دھماکہ1984میں کر سکتے تھے مگر اس وقت کے وزیر خارجہ نے ایسا کرنے سے منع کیا کہ اس سے ہماری امداد بند ہو جائے گی۔ وہ لاہور جم خانہ کلب میں ’’ایک شام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام‘‘ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ان کی جم خانہ آمد پر جم خانہ کلب کے ممبران نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی قوت بننے میں ہم نے صرف6سال کام کیا جبکہ یہی کام جرمنی اور ہالینڈ نے20سال میں مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد میں اضطراب محسوس کرتا تھا کہ اگر ہم ایٹمی طاقت نہ بنے تو بھارت ہمیں ختم کرنے کیلئے بھرپور زرور لگائے گا اور میں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بڑے خفیہ طریقے سے اس حوالے سے خط لکھا اور بھٹو صاحب نے منظوری دے دی اور اپنے وزیراعظم کے کچھ ا ختیارات مجھے تفویض کر دیئے۔ اپنی تفصیلی تقریر میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایٹم بم ہم نہ بھی چلائیں تو قیامت تک وہ کارآمد رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے بعد میں نے اپنی بقیہ زندگی فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دی ہے۔ میں نے کئی فلاحی منصوبے بنائے ہیں۔ ان میں نمایاں منصوبہ لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کا قیام ہے۔ جو غریبوں کی خدمت کے لئے بنایا گیاہے۔ ہسپتال میں اب تک ساڑھے 3لاکھ سے زیادہ مریض استفادہ کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ انہوں نے یہ ہسپتال شوکت ورک کی تجویز پر شروع کیا ہے۔ اب ہسپتال کی 300بستروں پر مشتمل نئی عمارت تیزی سے زیر تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبان اور رمضان المبارک میں لوگ کارخیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ میں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں اور امید کرتا ہوں ک ہ آپ میری ہسپتال بنانے میری بھرپور مدد کریں گے اور مجھے کیسی اور کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ تقریب سے جم خانہ کلب کے چیئرمین کامران لاشاری، پروفیسر ڈاکٹر عاطف کاظمی اور جنرل ریٹائرڈ زاہد علی اکبر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…