بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

بدترین آٹا بحران کا خطرہ،تفصیلات منظر عام پرآگئیں

datetime 9  جولائی  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)فلور ملز ایسوسی ایشن نے چوکر پر سات فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس لینے کیلئے دی گئی مہلت ختم ہونے پر آج ( جمعہ) سے ملک بھر میں گندم کی واشنگ بند کرنے کے اعلان کر دیا ۔فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو دوسرے مرحلے مےں کل (ہفتہ )سے ملک بھر کی فلور ملزگندم کی پسائی کے ساتھ ساتھ مارکےٹ مےں ہر قسم کی سپلائی بند کر دےں گی۔فلورملوں نے چوکر پرعائد7فیصد سیلز ٹیکس کے خلاف رمضان پیکج کے تحت یوٹیلٹی سٹوروں اور چاروں صوبوں میں آٹے کی سپلائی دینے سے بھی انکار کر دیا ہے ۔فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا احمد کے مطابق پنجاب حکومت کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ سندھ بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ کی فلور ملز تنظیموں کو بھی ہدائت کی گئی ہے کہ وہ رمضان پیکج کے تحت حکومتوں کے ساتھ کاروبار بند کر دیں اور آج( جمعہ) سے رمضان پیکج کے لیے محکمہ خوراک سے گندم نہیں اٹھائیں گے ۔رمضان پیکج کے تحت پورے پنجاب میں 1لاکھ 40ہزار آٹے کے تھیلے سپلائی کیے جاتے ہیں جو کہ سیلز ٹیکس کی وجہ سے 11جولائی سے بند کر دئے جائیں گے ۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جب تک چوکرپر 7فیصد سیلز ٹیکس موجود ہے پورے ملک میں رمضان پیکج کے علاوہ پرائیویٹ گرائنڈنگ اور آٹے کی پیداوار نہیں کی جائے گی ۔جمعہ سے گندم کی واشنگ بند اور ہفتے کو ملز مالکان اپنی اپنی فلور ملوں کو تالے لگادیں گے اورجیسے ہی وفاقی حکومت چوکر پر سیلز ٹیکس ختم کرے گی اسی روز سے آٹے کی پیداوار شروع کر دی جائے گی ۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا احمد نے کہا کہ چوکر پر عائد سیلز ٹیکس کے خلاف کل بروز ہفتے کو چاروں صوبوں میں فلور ملیں بند کر دی جائیں گی اور آٹے کی سپلائی پورے پاکستان میں غیر معینہ مدت کے لیے بند کی جائے گی ۔حکومت نے زبردست ملیںکھلوانے کی کوشش کی تو پھر چاروں صوبائی حکومتوں میں دما دم مست قلندر ہو گا جس کی ذمہ دار وفاقی وزارت خزانہ ہو گی ۔ملک گیر ہڑتال کے حوالے سے طلب کئے گئے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ چوکر پر عائد سیلز ٹیکس واپس لینے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ہم کسی بھی صورت میں سیلز ٹیکس ادا نہیں کریں گے چاہے ہمیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے چیئرمین ہڑتال کی کامیابی کے لیے آپس میں رابطے میں ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہ ڈیلرز کو جو سپلائی دی جاچکی ہے وہ ہفتے کو ختم ہو جائے گی اور ہم ہفتے کو گندم گرائینڈ نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بلوں میں سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں تو پھر کیوں بار بار سیلز ٹیکس عائد کر دیا جاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے دوران اگر کسی مل نے گرائنڈنگ کی تو اس کا لائسنس منسوخ کر کے اس کی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے علاوہ بھی ہم سیلز ٹیکس کے خاتمے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…