بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان مہرہ!مولانا فضل الرحمان نے فوجی قیادت کو انتخابات میں دھاندلی کا مجرم قرار دیدیا

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، قوم اس ناجائز حکومت سے خلاصی کے لیے پرعزم ہے،حکومت کے پاس مستعفی ہونے کیلئے31جنوری تک کی مہلت ہے، عمران خان صرف مہرہ ہے اسٹبلشمنٹ اور فوجی قیادت کو انتخابات میں دھاندلی کی مجرم ہے،اب ہماری تنقید کا رخ ان کی

طرف برملا ہوگا،لانگ مارچ اسلام آباد یا پھر راولپنڈی کی طرف کیا جائے فیصلہ پی ڈی ایم قیادت کرے گی۔لاہور میں پی ڈی ایم کے طویل اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تمام مسائل انتہائی سنجیدہ اور گہرے تجزیے کے ساتھ زیر بحث آئے۔ان کا کہنا تھا کہ آئے روز ایک خاص مہم جوئی کے تحت میڈیا پر پی ڈی ایم میں اختلاف کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں آج وہ سب دم توڑ چکی ہیں اور پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم مستقبل اس ناجائز حکومت سے قوم کی جان خلاصی کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم نظر آئی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میڈیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں ہر طبقہ مظلوم ہیں اور اسی طرح میڈیا بھی مظلوم ہیں اور ہم میڈیا کے مظلوم کے طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے انہیں بھی احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے اٹھنے والی آواز کو پوری قوت کے ساتھ قوم تک پہنچائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پچھلے اجلاس میں کہا تھا کہ 31 دسمبر تمام اراکین اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قیادت تک پہنچائیں گے اور سب نے اجلاس میں رپورٹ دی کی سب کے استعفے قیادت تک پہنچ گئے ہیں اور ایک ہدف مکمل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کہا تھا کہ 31 جنوری تک حکومت کو مستعفی ہونے کی مہلت ہے اور آج پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایک مہینے کی مدت ہے،

اس کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت لانگ مارچ اور اس کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت فیصلہ کرے گی کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کی جائے یا پھر راولپنڈی کی طرف کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو ایک ڈیپ اسٹیٹ بنا کر یہاں کی اسٹبلشمنٹ نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہے اور عمران خان ایک مہرہ ہے

جس کے لیے دھاندلی جنہوں نے کی اور جنہوں نے ان کو قوم پر مسلط کیا اور ایک جھوٹی حکومت قائم کی۔انہوں نے کہا کہ ہم آج واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم اسٹبلشمنٹ اور فوجی قیادت کو اس کا مجرم سمجھتے ہیں اور ہماری تنقید کا رخ اب ان کی طرف برملا ہوگا اور اب ان کو سوچنا ہے کہ پاکستان کی سیاست پر اپنے پنجے

گاڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا اس سے دست بردار ہو کر اپنی آئینی ذمہ داریوں کی طرف جاتے ہیں۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ ‘ہم بڑی وضاحت کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں، فوج ہماری فوج ہے، ہم اس کو اپنی فوج سمجھتے ہیں، ہم تمام جرنیلوں کا احترام کرتے ہیں، یہ ہماری دفاعی قوت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…