منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گی ، مولانا فضل الرحمان کا بڑا اعلان

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے انعقاد میں ابھی وقت ہے او راس میں حصہ لینے یا نہ لینے بارے بعد میں فیصلہ کیاجائیگا، وزیر اعظم کے پاس مستعفی ہونے کیلئے 31جنوری تک کی مہلت ہے او راگر وہ مستعفی نہیں ہوتے تو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلا کر لانگ مارچ کی

حتمی تاریخ کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا جائے گا کہ ہمارا رخ اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف ہوگا، 19جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا اور اس کے بعد نیب دفاتر کے باہر بھی احتجاجی مظاہرے کرنے کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا، اسٹیبلشمنٹ نے سارے نظام کو یر غمال بنایا ہوا ہے او رعمران خان صر ف ایک مہرہ ہے، ہم جھوٹی حکومت کے قیام پر اسٹیبلشمنٹ کو مجرم سمجھتے ہیں، تنقید کا رخ بر ملا ان کی طرف ہوگا اور اب ان پر منحصر ہے کہ وہ سیاست پر اپنے پنجے گاڑھتے ہیں یا اس سے دستبردار ہو کر آپنی آئینی ذمہ داریوں کی طرف جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے اپنی زیر صدار ت جاتی امراء رائے ونڈ میں سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مریم نواز، راجہ پرویز اشرف، احسن اقبال، میاں افتخار سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں چلائی جاتی ہیں لیکن میں واضح کرنا چا ہتا ہوں کہ یہ افواہیں ہیں جو دم توڑ چکی ہیں، آج کے اجلاس میں پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آئی ہے اور ناجائز حکومت سے جان خلاصی کے لئے پہلے سے زیادہ پر عزم نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کے استعفے اپنی اپنی قیادت تک پہنچ چکے ہیں

اور اجلاس میں اس کی رپورٹ پیش کی گئی ہے او راس طرح پہلا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس 31جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت ہے، اگر مقررہ مدت تک فیصلہ نہیں کیا جاتا تو پھر پی ڈی ایم کی قیادت فوری طو رپر بیٹھ کر لانگ مارچ کی تاریخ کا حتمی تاریخ کا تعین کر ے گی اور اس بات کا بھی فیصلہ ہوگا کہ رخ اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ

اسٹیبلشمنٹ نے سارے نظام کو یر غمال بنایا ہوا ہے او رعمران خان صر ف ایک مہرہ ہے، جنہوں نے دھاندلی کی اور قومی پر جھوٹی حکومت کو مسلط کیا ہم واضح کر دینا چا ہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس کا مجرم سمجھتے ہیں اور بر ملا تنقید ہوگی۔ ہماری تحریک مہرے کی طرف ہوتی ہے لیکن اس کی اصل ذمہ دار پشت پناہی کرنے والے ہیں او رہم قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ خرابیوں کی اصل جڑ کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ 19جنوری کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج ہوگا اور اس کے بعد ہم نیب کے دفاتر کے باہر بھی احتجاج کا شیڈول طے کر رہے ہیں۔ ہم نیب کو احتساب کا ادارہ نہیں سمجھتے بلکہ یہ بھی اس نظام کا ایک نمائندہ ہے جو حزب اختلاف کو جکڑنے کے لئے بنایا گیا ہے لیکن اب انتقام کا سلسلہ نہیں چلے گا، کوئی بھی سیاستدان احتساب سے بھاگا نہیں ہے لیکن نیب نے ثابت کیا یہ انتقام کا ادارہ ہے۔پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں نیب کے حوالے سے مزید سخت فیصلے

کرنے کی طر ف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ تاریخ پر اجلاس میں لانگ مارچ کا فیصلہ اور استعفوں کی حکمت عملی طے کی جائے گی او رہم باہمی حکمت عملی کے ساتھ کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے تفصیلی بحث ہوئی ہے اور فیصلہ ہوا ہے کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ہے، سینیٹ ایک ادارہ ہے او رہم بطور ادار ے کے انتخابات کے خلاف نہیں، اس کے انتخابات میں ابھی وقت ہیں اور حالات کو مد نظر رکھتے

ہوئے اس کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی سفارشات پیش کی ہیں جس میں آئینی قانونی اور سیاسی پوزیشن کو واضح کیا ہے اور تجاویز پر سیر حاصل بحث کے بعد متفقہ آراء قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر بھی غور کر رہے ہیں کہ جیلوں کا رخ کریں او رحکومت کی پسپائی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ

بعض باتین ایسی ہیں جن کے بارے میں میڈیا قیاس آرائیاں کرتا ہے اس پر دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی درانی اچانک آئے او رمیں نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات خارج از امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اصلاح احوال کے لئے ضروری سمجھا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ عوام کے معاملات میں کہاں سے مداخلت کی جاتی ہے،وزیر اعظم تو مہرہ ہے کیوں اصل ذمہ داروں کو نظر انداز کیا

جائے ملک کے حالات کا ذمہ دار کوئی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ سوالات ایسے ہیں جو آپ کرتے رہیں گے او رہم مسکراہتے رہیں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم نے بظاہر نظر انداز کیا ہوا ہے لیکن ہم آپ کو سر پرائز دیتے رہیں گے،تحریک عدم اعتماد فیصلہ نہیں ہوا لیکن ہمی جلدی کی کوئی ضرور ت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کوئی تحفظات نہیں تھے بلکہ تجاویز پیش تھیں او ر

اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چیزیں اجلاس میں بحث ہوتی ہے وہ اجلاس کی ہی امانت ہوتی ہیں جنہیں چوکوں چوراہوں میں سامنے نہیں لایا جا سکتا،ہم نے راولپنڈی میں کس گیٹ کی طرف جانا ہے ابھی اس کا فیصلہ کرنا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے سارے استعفے آ چکے ہیں، جن دو ممبران کا کہا جارہا ہے اگر قیادت انہیں حکم دے تو وہ استعفوں سے پیچھے ہٹیں،جو امیدیں لگائے ہوئے ہیں انہیں ناکامی ہو گی۔قبل ازیں جاتی امراء رائے ونڈ میں جے یو آئی (ف) کے امیر اور

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت سربراہی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مریم نواز، آفتاب خان شیرپاؤ،محمو دخان اچکزئی، میاں افتخار حسین، شاہ اویس نورانی،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر،سینیٹر پروفیسر ساجد میر، احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، پرویز رشید،سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق،امیر حیدر خان ہوتی اورامیر مقام سمیت دیگر شریک ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف زرداری، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے سربراہ سردار اختر مینگل بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے شرکاء کو فنکشل لیگ کے سربراہ محمد علی درانی سے ہونے والی ملاقات اور اس میں زیر بحث آنے والی گفتگو کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور وفد نے پارٹی کی سی ای سی اجلاس میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والی سفارشات بارے آگاہ کیا اور

قانونی نکات پر بھی گفتگو کی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی اپنا نقطہ نظر او رشفارشات پیش کی گئیں جبکہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی قیادت او ررہنماؤں نے بھی اپنا اپنا نقطہ نظر اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی غوروخوض کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے موجودہ حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا نا گزیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…