بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد اسرائیلی ٹولہ اور یہودی لابی کے لوگ ہیں مولانا عبد الغفور حیدری کی سابق پارٹی اراکین پر شدید تنقید ، سنگین الزامات عائد

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے خلاف اسرائیلی ٹولہ خلاف ہے۔ گزشتہ روز جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے جے یو آئی کے ناراض رہنماؤں کے اجلاس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام کے خلاف اسرائیلی ٹولہ خلاف ہے،

مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کو جے یو آئی نے نکال دیا ہے وہ اسرائیلی ٹولہ ہے،اب وہ کسی کی حمایت میں بیان دیں تدریس یا کسی تنظیم کا کام کریں میں کچھ نہیں کہ سکتا،اْن قوتوں نے اْنہیں یہاں تک پہنچایا میں سمجھتا وہ نا دانستہ طور پر حکوت یا اداروں کے لیے استعمال ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے سوچا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کچھ بے ضمیر لوگوں سے رائے بنائی جائے،حافظ حسین احمد مسلسل مولانا فضل الرحمن پر مسلسل تنقید کرتے رہے،جمعیت علمائے اسلام نے حافظ حسین احمد کو بیماری کی حالت میں ساتھ رکھا۔‎دوسری جانب آج جمعہ کو سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم ٹکڑے ٹکرے ہو جائیں مگر نیب میں پیش نہیں ہوں گے،نیب پہلے الزامات لگاتا ہے، بے عزتی کرتا ہے، پھر کہتا ہے کچھ ثابت نہیں ہوا،یہ بلیک میل کرنا کا دھندہ ہے، پیچھے سے پش کیا جاتا ہے کہ آپ نے یہ کرنا ہے،مولانا فضل الرحمن کا قصور یہ ہے جن شخصیتوں نے سلیکٹ کیا ہے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتے ہیں،اس لئے مولانا فضل الرحمن کا نیب اور میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ سینیٹ کااجلاس چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہاکہ نیب کے معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ،اس معاملہ پر اپوزیشن کے ایجنڈا کے باوجود

حکومتی ارکان کو بھی بحث کا موقع دیا جائے ،یہ معاملہ پارلیمان کی کمیٹی کو بھیجا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب قانون کی روح متاثر ہورہی ہے۔ سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ عدالت سے باہر ہی ٹرائل شروع کر کے متعلقہ افراد کی بدنامی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے بھی اظہار کیا گیا ہے کہ نیب کا عمل یک طرفہ ہو رہا ہے، اس کا مقصد ہے کہ مخالفین کو بدنام کیا جائے

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جنگ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمن کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم اس کیس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد کو ہدف بنایا جاتا ہے، خواجہ آصف کو گرفتار کیا گیا، اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کر کے بحث کی جائے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مولانا کے اسلام آبا د میں دو تین ارب کی

جائیدادیں ہیں، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کے کاغذات تو لے آئیں،دو ڈھائی سال میں اپنے وعدوں میں عمل درآمد کراتے، ملک کو آگے لے جاتے، کہا گیا کہ قرضے نہیں لوں گا،خودکشی کروں گا، پچاس لاکھ لوگوں کو گھر دینے کا وعدہ کیا ہوا، غریب اس کرونا میں ہسپتال میں جاتا ہے، اسکے پاس پیسے نہیں ہوتے اور تڑپ تڑپ کر مرجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں (حکومت)نے کچھ افراد کو

اپوزیشن کے پیچھے لگا دیا ہے اور کہتے ہیں کہ فوج ہمارے پیچھے ہیں، آپ کیوں فوج کو سیاست میں ملوث کرتے ہو، فوج کے پیچھے چھپ کر حکومت نہیں چلائی جاتی، سی پیک کہا ں گیا؟، آج آپ کی معیشت بیٹھ گئی ہے، اللہ وہ دن نہیں دکھائے جس دن قومی اسمبلی، سینیٹ کو چلانے اور ملازمین کو دینے کیلئے پیسے نہیں ہوں،خدارا ملک کا سوچیں، ہماری پگڑیاں اچھال کر ٹرائل کرناناقابل قبول ہے،

نیب سے احتساب نہیں، انتقام کی بوآتی ہے،حکومت بولتی رہتی ہے اب ہمارے بولنے کی باری ہے،خواجہ آصف کو اقامہ کی بنیادپر گرفتار کیا گیا،آصف زرداری ماضی میں بھی گرفتار ہوئے اب بھی بغیر وجہ کے جیل میں ہے،نیب احتساب کا نہیں،اپوزیشن کا انتقام کا ادارہ ہے،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نیب نے گرفتار کرنا ہے تو کرے، نیب کے در پر نہیں جاؤں گا، یہ ادارہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے،

خواجہ آصف جیسے شریف شخص کی گرفتار کی مذمت کرتا ہوں،نیب انتقامی ادارہ بن چکا ہے، اس کے توسط سے میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، بے ضمیر اینکرز کو ہائیر کیا جا تا ہے، چیئرمین اس کو نوٹس لیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے اظہا ر خیال کرتے ہوئے کہاکہ نیب احتساب کا ادارہ نہیں پی ٹی آئی کا ایک ونگ بن چکا ہے،یہ وہی پرانی باتیں اور طعنے دئیے جاتے ہیں،پارلیمنٹ سب سے

بڑا ادارہ ہے، پارلیمنٹ کو ہی آئین میں ترمیم کی اجازت ہے، پارلیمان ہی چیک اینڈ بیلنس رکھ سکتی ہے، اس ملک میں نیب اور حکومت کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اس پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے،کوئی ادارہ جب آئین کی خلاف ورزی کرے پھر انتظامیہ اس کے پیچھے کھڑی ہو تو پارلیمنٹ کو نوٹس لینا چاہیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ادارہ(نیب)سیاسی ونگ بن چکا ہے اور سیاسی

وفاداریاں تبدیل کرنے میں لگے ہیں،ریفرنس ابھی فائل نہیں ہوتے اور لوگوں کی پگڑیاں اچھال دیتے ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے، جعلی کیسز بنائے جاتے ہیں اس کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں، ان کیسز سے نہیں ڈرتے، ملک کے بیورو کریسی اور تاجر آرمی چیف سے ملاقات میں نیب کی شکایات کرتے ہیں، بیوروکرسی کام کرنے سے ڈر رہی ہے، اس ملک کے سیاستدانوں کے

ساتھ کارروائیوں سے اپنی انتقام کی پیاس بجھائے مگر اس ملک کے تاجروں کا کیا قصور ہے۔جاوید عباسی نے کہا کہ آج ملک میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، ہم ان کی طرح الزامات اور بہتان نہیں لگاسکتے، یہ معاملہ چوری کا نہیں،سینہ زوری کا ہے،مضبوط ملک اور جمہوریت کیلئے احتساب کا ادارہ ہونا چاہیے،لوگوں کی عزتیں اورپگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…