پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان کا دو ٹوک اعلان

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)جمعیت علما اسلام ف کے رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، ادارے نے بغیر ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں، روز اول سے کہہ رہے ہیں یہ ادارہ احتساب نہیں انتقام کے لیے ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی

زندگی کھلی کتاب ہے لیکن اس ملک میں احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، آصف علی زرادری جو کہ اس ملک کے صدر رہے ہیں پہلے ان کو گرفتار کیا گیا، پانامہ کے ڈرامے سے بات اقامہ پر ختم ہوئی، اقامہ بھی کوئی جرم ہوتا ہے؟ نوازشریف وہاں کاروبار کرتے تھے اس لیے ان کے پاس اقامہ تھا۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں یہ نیب کا ادارہ احتساب نہیں بلکہ انتقام کے لیے ہے کیوں کہ اس ادارے نے بغیر ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں۔اس سے پہلے جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ نیب میں پیشی ہوئی تو میں اکیلا نہیں پوری جماعت پیش ہوگی، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خوف زدہ اور گھبراہٹ کا شکار ہے، حکومت نے سوالنامہ بھیج کر میری کردار کشی کرنے کی کوشش کی، نیب میں پیشی ہوئی تو میں اکیلا نہیں پوری جماعت پیش ہوگی۔جے یو آئی امیر نے کہا کہ حکومت ناجائزہو اور نااہل بھی ہو تو اسے رہنے کا حق نہیں، قوم کو کمزورکرکے کہا جارہاہے کہ ملک چل رہاہے، یہ ملک کی جڑیں کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے، کیوں کہ موجودہ حکومت ناجائز اور دھاندلی کی پیداوار ہے، اگلے دوسال میں ترقی کی شرح مزید نیچے جائے گی، سالانہ مجموعی ترقی کا تخمینہ صفر سے نیچے چلا گیا ہے، آج ملک جام ہوچکا ہے، اس صورتحال میں ملک سب سے پہلے ہے باقی سیاستدان

اور دیگر سب بعد میں ہیں، اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں معیشت کبھی اتنی نہ گری، ملک داخلی طور پر تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب معیشت مضبوط ہو، میرے ملک کا آئین جتنا حق دیتا ہے اتنا استعمال کرنا ہے، ملک کسی کی ملکیت نہیں یہ سب کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…