منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان کا دو ٹوک اعلان

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)جمعیت علما اسلام ف کے رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے لیکن نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، ادارے نے بغیر ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں، روز اول سے کہہ رہے ہیں یہ ادارہ احتساب نہیں انتقام کے لیے ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی

زندگی کھلی کتاب ہے لیکن اس ملک میں احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، آصف علی زرادری جو کہ اس ملک کے صدر رہے ہیں پہلے ان کو گرفتار کیا گیا، پانامہ کے ڈرامے سے بات اقامہ پر ختم ہوئی، اقامہ بھی کوئی جرم ہوتا ہے؟ نوازشریف وہاں کاروبار کرتے تھے اس لیے ان کے پاس اقامہ تھا۔سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں یہ نیب کا ادارہ احتساب نہیں بلکہ انتقام کے لیے ہے کیوں کہ اس ادارے نے بغیر ثبوت کے سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں۔اس سے پہلے جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ نیب میں پیشی ہوئی تو میں اکیلا نہیں پوری جماعت پیش ہوگی، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خوف زدہ اور گھبراہٹ کا شکار ہے، حکومت نے سوالنامہ بھیج کر میری کردار کشی کرنے کی کوشش کی، نیب میں پیشی ہوئی تو میں اکیلا نہیں پوری جماعت پیش ہوگی۔جے یو آئی امیر نے کہا کہ حکومت ناجائزہو اور نااہل بھی ہو تو اسے رہنے کا حق نہیں، قوم کو کمزورکرکے کہا جارہاہے کہ ملک چل رہاہے، یہ ملک کی جڑیں کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے، کیوں کہ موجودہ حکومت ناجائز اور دھاندلی کی پیداوار ہے، اگلے دوسال میں ترقی کی شرح مزید نیچے جائے گی، سالانہ مجموعی ترقی کا تخمینہ صفر سے نیچے چلا گیا ہے، آج ملک جام ہوچکا ہے، اس صورتحال میں ملک سب سے پہلے ہے باقی سیاستدان

اور دیگر سب بعد میں ہیں، اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں معیشت کبھی اتنی نہ گری، ملک داخلی طور پر تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب معیشت مضبوط ہو، میرے ملک کا آئین جتنا حق دیتا ہے اتنا استعمال کرنا ہے، ملک کسی کی ملکیت نہیں یہ سب کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…