اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)ایگری فورم پاکستان کے صدر ابراہیم مغل کا کہنا ہے کہ انڈوں کی قیمت میں اضافہ بیڈگورنس ہے ،صوبائی حکومتوں نے قیمتوں کو مانیٹر نہیں کیا، سراسر ان کی ناکامی اور نااہلی سے تاجروں کی چاندی ہوئی۔صدر ایگری فورم ابراہیم مغل کا کہنا تھا انڈوں کی قیمت نہیں
بڑھنی چاہیے تھی کیونکہ نہ پیداوار کم ہوئی نہ اسے کورونا نے متاثر کیا۔نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کے دورنا ان کا کہنا تھا کہ وجہ صرف ایک ہے کہ صوبوں کے اندر بیٹھی افسر شاہی پر وزراء کا کنٹرول نہیں ہے اور چیک اینڈ بیلنس نظام فعال نہیں ہے، جس کا فائدہ پولٹری کاروبار والوں نے خوب اٹھایا ہے ۔ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ سالانہ 3 ارب انڈوں کی پاکستان میں کھپت ہے اس سال اگرچہ کم استعمال ہوئے لیکن انڈے کے تاجر نے سپلائی روک کر مصنوعی قلت کو جواز بنا کر قیمتیں سو روپے سے دو سو روپے پہنچا دیں اور کروڑوں رپے اضافی کمائے۔ صدر ایگری فورم نے کہا کہ حکومت چاہے تو قیمت کم ہو سکتی ہے افسوس ہمارے ہاں سالانہ اوسطاً انڈے کھانے کی شرح 22 سے 25 انڈے ہے جو انتہائی کم ہے، قیمت بڑھنا غریب آدمی کے لیے عذاب ہے۔ دوسری جانب شہر میں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت 9روپے کمی سے251روپے، زندہ برائلر مرغی6روپے کمی سے173روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت204روپے فی درجن پر مستحکم رہی



















































