منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی فوڈ و ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کے انسانی کھپت و ادویات میں استعمال کی منظوری دیدی

datetime 26  دسمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکی فوڈ و ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کے انسانی کھپت و ادویات میں استعمال کی منظوری دیدی ہے۔یہ خنزیر بعض شوگر مالیکیول سے پاک ہے جو کہ بعض لوگوں میں شدید الرجی ری ایکشن کا باعث بنتے ہیں ایف ڈی اے کی جانب سے منظوری کا یہ کیس امریکہ میں انسانوں کے استعمال کیلئے جینیاتی طور پر تبدیل کئے گئے

جانور کی دوسری مرتبہ سامنے آیا ہے۔اس سے قبل 2015ء میں خوردنی مچھلی کی تیزی سے پیداوار کرنے والی ایک قسم تیار کی گئی تھی جو ابھی تک متنازعہ ہے۔جینیاتی طور پر تبدیل کئے گئے خنزیر کو گالسیف کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اسے شور ملیکیول(الفاگال) کے وجود کو ختم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ایف ڈی اے کے کمشنر سٹیفن ہان کا کہنا ہے کہ ایک جانور بائیوٹیکنالوجی پروڈکٹ کی خوراک اور بائیومیڈیکل استعمال کیلئے منظوری سائنسی ایجاد کیلئے ایک شاندار سنگ میل ہے۔ساؤتھ جارجیا پری کلینکل ریسرچ کے مطابق اس سے تیار ہونے والی دوا کو عام افشار خون،بلند افشار خون کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس کے انسانی ادویات میں استعمال سے قبل مزید معائنہ درکار ہوگا۔ژینو تھراپیو ٹکس نامی نجی ریسرچ و ڈویلپمنٹ کمپنی پہلے ہی گالسیف خنزیر کے بائیومیڈیکل استعمال میں انسانی ادویات میں استعمال کے تجربے کے پہلے مرحلے پر کام کر رہی ہے،جس میں ٹشو کا استعمال کرتے ہوئے بری طرح سے جھلسنے والے مریضوں کیلئے سکن ٹرانسپلانٹ کا تجربہ کیا جارہا ہے۔جینیاتی طور پر تبدیل کئے گئے خنزیر کی پیداواری کمپنی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انسانی استعمال کیلئے اس کے گوشت کو فروخت کرنے کا فوری طور پر کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے۔ایف ڈی اے کی جانب سے منظوری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر گالسیف گوشت سپرمارکیٹس میں دستیابی کا کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…