جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

ہمیں عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ، محمود خان اچکزئی ایک بار پھر کھل کر بول پڑے

datetime 25  دسمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ(آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین ایک فیڈریشن ہے جس میں تمام ا قوام بستے ہیں اگر اقوام سے پوچھا جائے اسٹیبلشمنٹ یا پاکستان چاہیے ہم سب پاکستان کے حق میں ووٹ دینگے اس وطن میں ہمارے آبا واجداد کی قبریں ہیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے خدا نخواستہ آئین کو اس سے فارغ کردیا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی

ہمیں عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ملک کو ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کے نمائندے ہوں ہم اٹامک ملک ہے اور پارلیمان ربڑھ سٹیمپ ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات فوج کے ساتھ سیاسی معاملات میں بالکل نہیں ہونی چاہیے اسٹیبلشمنٹ بھی اس ملک کا حصہ ہے بد قسمتی سے دنیا جہاں کی فوجیں ہیں وہ بھی لیڈروں سے ملتے ہونگے لیکن دنیا میں یہ قانون ہے جو شخص فوج کا حصہ ہو اس کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہے ہمارے آئین سمیت دنیا کا ہر آئین یہی کہتا ہے ان کی اس بات کی وجہ سے آئین ایک مزاق بن گیا ہے آئین ایک فیڈریشن ہے جس میں پشتون بلوچ،سرائیکی،سندھی ،پنجابی بستے ہیں ہم ایک دوسرے کے شہریوں سے دور ہیں اور ایک دوسرے کے ثقافت سے نا واقف ہیں جو چیز نے ہمیں اکھٹا کیا ہے وہ آئین ہے خدا نخواستہ آئین کی فارغ کردینگے تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گے انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ(ن) سے کہا ہے کہ ایور گرین لوگوں کو آئندہ پارٹی میں جگہ نہ دیں جو ہر حکومت کے ساتھ رہے ہیں اور جن کو محمد علی جناح نے کوٹے سکے کہا تھا یہ نیک بخت لوگ محمد علی جناح سے لیکر عمران خان تک ہر اقتدار میں ہوتے ہیں اور جس پارٹی کا موقع آتا ہے اس پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں انہوں نے

کہا کہ جن ججوں نے آئین کی خاطر اپنے بچوں کے پیٹ پر لات ماری جن سیاسی کارکنوں نے کھوڑے کھائیں اور جو جرنلسٹ تاریک راہوں میں مارے گئے ان سب کو ان کا حق دینا چاہیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ جس جج نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا یا تھااس کو ہم نہیں چھوڑیں گے اورآئندہ کی جمہوری حکومتوں کا فیصلہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ جاسوسی اداروں

کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا ہم ان کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن کم سے کم سیاست میں مداخلت نہ کریں 30سال سے ہمارے ہونہار جنرل ضائع ہوکر ریٹائرڈ ہوگئے ہیں پہلے ایوب خان نے راستہ روکا ہوا تھا ،کوئی لیفٹیننٹ جنرل سے آگے نہیں بڑھا ریٹائرڈ ہوگئے پھر 10سال تک ضیاء الحق ،پھر 10سال تک پرویز مشرف نے روکا تھا جس سے ہماری فوج کی صلاحیتوں کو کمزور کردیا

اور ہم کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ہم اس ملک کو ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کے نمائندے ہوں اور یہ کتنی بری بات ہے آپ اپنے بچوں کو کرپٹ کریں ان کے فائل بنائیں ان کووزیراعلیٰ بنائیں پھر ان کو حکومت کے نمائندے بنا کر دنیا میں بھیجیں یہ بری بات ہے دنیا ایسی

نہیں کرتی ہے وہ اپنے بچوں کو وطن کی سبق دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اداروں کو ہماری سپورٹ چاہیے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ افغانستان میں 50سال سے ایک جنگ چل رہی ہے اب مذاکرات میں ساری دنیا شامل ہے جب زلمے خلیل زاد پاکستان آتا ہے جہاں اس کوچاہیے تھا وہاں نہیں جاتا ہے اور کئی اور چلا جاتا ہے ہمارے ملک کا دنیا میں کیا حیثیت ہے ہم ایک

اٹامک ملک ہے اور پارلیمان ربڑھ سٹیمپ ہے ہمیں اسٹیبلشمنٹ عزیز ہے کوئی پاگل آدمی ہوگا جو اس آدمی کا عزت نہیں کرے گا جب ملک پر خطرے کے وقت اپنا سر قربان کرے گا جب وہ نیک بخت اپنا کام چھوڑ کر ہماری طرف بھاگے گا وہ خودبرباد ہوگا ملک کے

تمام اقوام سے پوچھا جائے اسٹیبلشمنٹ یا پاکستان چاہیے ہم سب پاکستان کے حق میں ووٹ دینگے اسٹیبلشمنٹ ہمیں عزیزہوگی لیکن پاکستان ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے چونکہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہمارے آبا واجداد کی قبرستان ہے اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…