منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عطاء الرحمان کا دعویٰ غلط، صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کی نئی قسم پاکستان پہنچنے کی تردید کر دی

datetime 24  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن ) مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ نئے کورونا وائرس کے پاکستان پہنچنے کے شواہد نہیں ملے، کورونا وائرس کا نیا اسٹرین تلاش کرنے کی تحقیق کررہے ہیں، ممکن ہے 2021ء میں وباء ختم ہوجائے یا پھر کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کے پاکستان پہنچنے

کے شواہد نہیں ملے، ڈاکٹر عطاء الرحمان نے کورونا کی نئی قسم پاکستان پہنچنے کا سائنسی ثبوت پیش نہیں کیا۔کورونا وائرس کا نیا اسٹرین تلاش کرنے کیلئے تحقیق کررہے ہیں۔ہماری فیلڈ نجومیوں اور فال نکالنے والوں سے بھرچکی ہے، دراصل کسی کو علم نہیں وباء سے جان کب چھوٹے گی۔میرا تخمینہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وباء￿ ختم ہوجائے گی، ممکن ہے 2021ء میں وباء ختم ہوجائے یا پھر اس سے بھی کچھ زیادہ وقت لگ جائے۔وائرس کے خاتمے کیلئے ویکسین اور وائرس کا وقت کے ساتھ کمزور ہونا بہت اہم ہے۔پاکستان میں ایک سے زیادہ ویکسین حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ کورونا ری انفیکشن کے کیسز نظر آرہے ہیں، لیکن یہ کیسزفی الحال خطرناک نہیں ہیں۔وائرس میں معمولی سی تبدیلی دیکھی گئی ہے لیکن وائرس زیادہ خطرناک نہیں ہوا ہے۔وائرس میں جنیاتی تبدیلی کے باوجود ویکسین کارآمد رہے گی۔پروفیسر سہیل اختر نے کہا کہ ہمیں ویکسین کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ حفاظتی اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔یاد رہے وزیراعظم کے چیئرمین کورونا ٹاسک فورس کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاالرحمان نے برطانیہ میں دریافت نئے کورونا وائرس سے ملتے جلتے کورونا وائرس کے کراچی پہنچنے کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 200 سے زائد کمپنیاں نئی شکل میں آنے والے وائرس سے نمٹنے کیلئے ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…