منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے بھی حکومت سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دیدیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ابھی ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ہمارے پاس حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی آپشن ہے، اب سڑکوں پر عوام کا مقدمہ رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔جمعرات کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کی جو ہم امید لگا کر بیٹھے تھے وہ نظر نہیں آئی، اگر جمہوریت کے ثمرات سے پاکستان کے عوام مستفید نہ ہوں وہ بے معنی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کاہ کہ جو معاشرہ مردم شماری ہی صحیح نہ کر سکے وہ مردم شناسی کیسے کرسکتا ہے، ہر مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی 25 فیصد کم دکھائی گئی، اس حوالے سے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے، ہم مردم شماری سے قبل ہی عدالتوں میں چلے گئے تھے اور ہم نے حکومت میں اسی بنیادی نقطے پر شمولیت اختیار کی تاہم وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کے خدشات کے باوجود مردم شماری کو منظور کرلیا۔رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہم سے کیے گئے ایک وعدے پر بھی عمل نہیں کیا، ہمیں بتایا جائے ہم حکومت میں کیوں ہیں، بتایا جائے کیا ہم منتخب ایوانوں سے بھی باہر آجائیں؟ کیا ہر حق کیلئے فیصلہ سڑکوں پر ہوگا؟ وزیر اعظم کے فیصلے کے بعد سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ مایوس ہیں، ایسا نہ ہو سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ سیاسی لاتعلقی کا اظہار کرلیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے ایک مطالبے پر بھی عمل نہیں ہورہا، یہ ہمارے مطالبے نہیں حکومت کے وعدے ہیں، دھاندلی شدہ مردم شماری کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، ابھی ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہمارے پاس حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی آپشن ہے، اب سڑکوں پر عوام کا

مقدمہ رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔کنوینئر ایم کیوایم نے کہا کہ حکومت میں رہ کر احتجاج کا آپشن استعمال نہیں ہوسکتا، مردم شماری منظوری کے بعد ہمارے بعد آپشن ختم ہوگیا ہے، یہ ہمارے لیے زندگی اور موت سے مسئلے سے بڑھ کر ہے، جب مردم شماری ٹھیک نہیں ہوئی تو ہمارے حقوق کا کیا خیال رکھا جائیگا، مردم شماری نے سندھو دیش پر مہر لگا دی ہے، سندھو دیش بن چکا ہے بس اعلان باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…