پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا نام کی کوئی بیماری نہیں، لاہور ہائی کورٹ نے کورونا کو نہ ماننے والے شہری کو سخت سزا سنا دی

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے کا دعوی کرنے والے درخواست گزار پر بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے سے

متعلق شہری اظہر عباس کی دائر درخواست پرسماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ  کورونا وائرس سے متعلق تمام دستاویزات آئندہ سماعت پر پیش کردیں گے۔اس موقع پر درخواست گزار نے کہا کہ میں نے درخواست دائر کررکھی ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی وجود نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کو بھی لکھا ہے کہ کورونا وجود نہیں، میرا موقف سنا جائے۔ہاتھ لگانے سے یا کسی کو ملنے سے کورونا نہیں پھیلتا اور یہ ثابت کرنے کو تیار ہوں۔چیف جسٹس قاسم خان نے درخواست گزار کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ موجودہ وبا ء کا علاج نہ ہو، جس پر شہری نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، کہتا ہوں کہ کورونا کا وجود ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بات نہیں مانی جاسکتی کسی ماہرکی بات کریں۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی لیکن وہاں سے بھی ان کی کورونا کے متعلق درخواست خارج ہوئی ہے۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ آپ کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے رہا ہوں۔چیف جسٹس نے بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر درخواست گزار پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ ریونیو ایکٹ کے تحت وصول کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…