منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کیلئے بڑا اعزاز برطانیہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کا گھر قومی ورثہ قرار

datetime 13  دسمبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانوی حکومت نے الیکٹروویک یونیفکیشن تھیوری میں خدمات سر انجام دینے پر نوبیل ایوارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی، ڈاکٹر عبدالسلام کے برطانیہ میں واقع گھر کو قومی ورثہ قرار دے دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وہ امپیر یئل کالج لندن میں تھیوریٹکل فزکس کے بانی تھے اور 1957 سے لے کر 1996 میں انتقال کے وقت تک وہ اسی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

برطانوی محکمہ ورثہ نے ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر کے باہر نصب کی جانے والی نیلے رنگ کی تختی کی رونمائی کی ۔اس تختی پر لکھا کہ عبدالسلام 1996-1926، ماہر طبیعات، نوبیل انعام یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سائنس کے فاتح تھے۔پروفیسر مائیکل ڈف جنہوں نے پروفیسر عبدالسلام کی سربراہی میں 1972 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی تھی انہوں نے بھی ان کی خدمات کے اس اعتراف پر اپنے استاد کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ پٹنی میں اس مکان پر ایک نیلی تختی ڈاکٹر عبدالسلام کو ایک قابل فخر خراج تحسین ہے جہاں وہ 40 سال تک مقیم رہے۔پروفیسر مائیکل ڈف نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام نہ صرف بیسویں صدی کے ایک بہترین سائنسدان تھے ، جنہوں نے فطرت کی چار بنیادی قوتوں میں سے دو کو متحد کیا بلکہ انہوں نے ترقی پذیر دنیا میں سائنس اور تعلیم کی بہتری کے لئے اپنی زندگی بھی وقف کردی تھی۔ان کے ایک اور طالب علم پروفیسر ایان والسملے ، جو اب امپیریئل کے ایک پروٹوسٹ ہیں انہوں نے طبیعیات کے مضمون میں ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کو شاندار قرار دیا۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کی سائنس سے وابستگی کو گہرا قرار دیا جس کے باعث ٹریسٹی میں نظریاتی طبیعیات کے بین الاقوامی مرکز کی بنیاد رکھی گئی ہے ، جس کا مقصد ترقی پذیر دنیا میں سائنس کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…