واشنگٹن(نیوزڈیسک)طبی ماہرین نے مایوسی کو موروثی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اداسی، بے چینی اور ڈپریشن میں مبتلا افراد کی اولادیں بھی ان ہی امراض کا شکار ہوسکتی ہیں۔طبی ماہرین کی جانب سے تحقیق کے لیے 600 بندروں کے خاندانی سلسلوں کو مطالعہ کیا گیا جس میں بندروں میں بے چینی اور مایوسی سے وابستہ رویوں اور دماغی عکس نگاری(امیجنگ) کے درمیان تعلق دیکھا گیا جس سے ثابت ہوا کہ بندر اور انسان دونوں ہی میں ڈپریشن اور مایوسی کے جین اپنی نسل میں منتقل کرتے ہیں جن کا انکشاف والدین اور بچوں کے دماغی اسکین سے ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق دماغی اسکین سے ثابت ہوا کہ دماغی سرکٹ میں غیرمعمولی سرگرمی ڈپریشن کی وجہ ہوتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوسکتی ہے۔ اس اہم تحقیق کے بعد ماہرین کے خیال ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد کے بچوں کےعلاج میں اہم پیش رفت حاصل ہوسکے گی اور مستقبل میں اس اہم مرض سے بچا کا راستہ ہموار ہوگا۔واضح رہے کہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں انسان شدید ڈپریشن کی وجہ سے معمولاتِ زندگی انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں اور یہ مرض انہیں خودکشی کی جانب بھی دھکیل سکتے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
ٹیلی نار کمپنی کا کروڑوں لوگوں سے تاریخی فراڈ
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
خاتون افسر کو قیدی کیساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر قید کی سزا
-
بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
400 خاندانوں کی مسلم لیگ (ن)میں شمولیت
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا



















































