جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سکولوں کی جبراً بندش کے سبب عالمی تعلیمی بحران پیدا خصوصی اپیل کر دی گئی

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی)یونیسیف نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اسکولوں کی جبرا بندش کے سبب عالمی تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے، لہذا اسکول کھلے رہنے چاہئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یونیسیف جرمنی کی پریس آفیسر کرسٹینے کاہمن نے کہا کہ

کورونا وائرس کی وبا کے باوجود اسکول کھلے رہنے چاہئیں کیوں کہ اسکولوں کی جبرا بندش کے سبب دنیا بھر میں عالمی تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے۔کرسٹینے کاہمن نے کہا کہ دنیا بھر میں اسکولوں کے بند ہوجانے کی وجہ سے عالمی تعلیمی بحران پیدا ہوگیا ہے اور بہت سے ملکوں اور سماج میں اس کے منفی اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں پر تعلیمی اور ان کی نشوو نما کے حوالے سے اس کے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے اور بالخصوص کمزور اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ عدم مساوات میں اضافہ ہوگا اور حالیہ عشروں میں جو اہم پیش رفت ہوئی تھی وہ ایک بار پھر پرانی حالت میں واپس لوٹ جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں سے طویل مدت تک باہر رہنے اور سیکھنے سے محروم رہنے کا ایک اور منفی اثر یہ ہوگا کہ وہ دوبارہ اسکول جانے سے ہچکچائیں گے اور اس سے ان کی پوری زندگی متاثر ہوگی۔کرسٹینے کاہمن کا کہنا

تھا کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پریہ کہا جاسکے کہ اسکول کورونا وائرس کو پھیلانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ لہذا حتی الامکان کوشش کی جانی چاہیے کہ اسکول کھلے رہیں۔انہوں نے کہا ہم حکومتوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ اسکولوں کو کھولنے کو ترجیح دیں اور انہیں کھلا رہنے دیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہثبوتوں سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اسکول اس انفیکشن کو پھیلانے کا اہم ذریعہ نہیں ہیں اور اسکولوں کو بند کرنے کیبجائے ان کے کھولنے کے فوائد زیادہ ہیں۔ اسکولوں کو بند کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے اور ہر علاقے کی صورت حال کا انفرادی طور پر جائزہ لیا

جانا چاہیے۔کاہمن کا کہنا تھا کہ اسکول نہیں جانے کی وجہ سے بچوں کے اندر تشدد میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاماضی میں اس طرح کے بحرانوں سے ہمیں یہی تجربہ ہوا ہے۔یونیسیف کی آفیسر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا سے تعلیمی سلسلہ محدود ہوجانے کے پیش نظر آن لائن

یا ڈیجیٹل تعلیم ‘ایک بہت اچھا متبادل ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری آلات اور سازو سامان تک رسائی بہم پہنچانے کی ضرورت ہے کیوں کہ بالخصوص پسماندہ اور غریب خاندانوں کے بچے اس سے محروم رہتے ہیں۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اسکول کورونا وائرس کی وبا

کو پھیلانے کا ذریعہ ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ دنیا بھر میں اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز کے دوبارہ کھلنے سے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں کمیونٹی ٹرانسمیشن کی رفتار کم ہے اور جہاں اسکولوں نے احتیاطی اقدامات کیے ہیں، کووڈ کے کیسز میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…