منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میڈیکل کی دنیا میں انقلاب بلڈ شوگر کے مطابق ڈھل جانیوالی خودکارانسولین کی تیاری میں پیشرفت

datetime 7  دسمبر‬‮  2020 |

کوپن ہیگن(این این آئی)ذیابیطس ٹائپ ون کے کروڑوں مریضوں کو روانہ کی بنیاد پر انسولین کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھ سکیں۔مگر یہ تعین کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ انہں انسولین کی کتنی مقدار کی ضرورت ہے، کیونکہ درست مقدار استعمال نہ کرنے پر نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اب ایاسا کرنا بہت آسان اور محفوظ ہوگا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی اور بائیوتیک کمپنی گیوبرا نے ایک نیا انسولین مالیکیول تیار کیا جو مستقبل قریب میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے درست مقدار میں انسولین کی مقدار کو یقینی بنائے گا۔کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیونڈ جے جینسن نے بتایا کہ ہم نے اس قسم کی انسولین کی جانب پہلا قدم بڑھایا ہے جو جسم کے اندر خودکار طور پر بلڈ شوگر لیول کے مطابق مطابقت پیدا کرلیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آسکے گی۔محققین نے انسولین کی یہ قسم ایک بلٹ ان مالیکیول کے ذریعے تیار کی ہے جو محسوس کرسکتی ہے کہ جسم میں بلڈ شوگر کی مقدار کتنی ہے۔پھر جسم میں بلڈ شوگر لیول بڑھنے پر یہ مالیکیول تیزی سے متحرک ہوکر مزید انسولین خارج کرتا ہے، اگر بلڈ شوگر کی سطح گرتی ہے تو انسولین کی کم مقدار کا اخراج ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ مالیکیول مسلسل انسولین کی کم مقدار کو خارج کرتا ہے، مگر یہ مقدار ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کے للیے محفوظ اور آسان علاج فراہم کیا جاسکے گا، آج اس بیماری کے شکار افراد کو دن بھر میں کئی بار انسولین کو انجیکٹ کرنا پڑتا ہے اور مسلسل بلڈ شوگر لیول پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ان کے بقول اس نئی قسم کی بدولت ایسا نہیں ہوسکے گا اور جب کوی فرد نئے انسولین مالیکیول کو

انجیکٹ کرے گا تو اسے دن بھر میں دوبارہ لگانے کی کم ضرورت ہوگی۔اگرچہ خودکار انسولین ایک اہم پیشرفت ہے مگر یہ کب تک عام استعمال کے لیے دستیاب ہوگی، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔محققین کے مطابق ہم نے انسولین مالیکیول کو چوہوں پر آزمایا اور یہ موثر ثابت ہوا، اب اگلے قدم کے طور پر ایسے مالیکیول تیار کیا جائے گا جو فوری اور درست طریقے سے کام کرسکے اور

پھر انسانوں پر اس کی آزمائش ہوگی، جس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو ایک مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ انسولین ہمیشہ ایک ہی طریقے سے کام کرتی ہے، یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے چاہے مریض کو اس کی ضرورت نہ بھی ہو، ہم اس مسئلے پر اپنے نئے مالیکیول سے قابو پانے کے خواہشمند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…