پیرس (نیوزڈیسک )فرانس نے کہا ہے کہ وہ چین کو ہتھیار فروخت نہیں کر رہا ہے جب کہ اس پہلے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ بیجنگ کو دو جدید ترین جنگی کشتیاں فروخت کرے گا۔پیر کو پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر سے ملاقات کے بعد فرانسیسی وزیر دفاع جان ویس لی ریاں نے چین کو ممکنہ طور پر اسلحہ فروخت کرنے کی وسیع پیمانے پر پائی جانے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “چین کو ہر کسی کے اسلحہ کی فروخت پر پابندی ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔”فرانس یورپی یونین کا وہ رکن ملک ہے جس نے چین کو اسلحہ برآمد کرنے پر قدغن لگائی تھی۔ یہ پابندی چار جون 1989 کو بیجنگ کی طرف سے تیانانمین اسکوائر پر احتجاج کرنے والے طلبا پر تشدد پر مبنی کریک ڈان کے بعد عائد کی گئی۔مئی میں فرانس نے چین کی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے لیے “مسٹرل کلاس” بحری جہاز بھیجا تھا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ فرانس ایسے دو جنگی جہاز جو کہ روس کے لیے تیار کیے گئے تھے، چین کو بیچے گا۔یہ ہیلی کاپٹر بردار جدید بحری جہاز تصور کیا جاتا ہے۔یوکرین کا تنازع کھڑا ہونے کے بعد فرانس نے روس کو اس بحری جہاز کی فراہمی معطل کر دی تھی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































