پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

بالی ووڈ میں ”سیلفی“ کے بعد ”ویلفی“بھی بنا دی گئی

datetime 7  جولائی  2015 |

ممبئی (نیوزڈیسک)بالی ووڈ کے اداکار، سیاست دان اور مختلف کھلاڑی کافی عرصے سے سیلفی کو فیشن سمجھتے رہے مگر اب سیلفی اور ڈب میش ایپ کے بعد انڈیا نے اپنی ایپلیکیشن بنائی ہے جسے ویلفی کا نام دیا گیا ہے۔اس ایپ کو بولی وڈ کے ادااکار اور ہندوستانی کھلاڑی ذوق و شوق سے استعمال کرتے دکھائی دے ہیں۔یہ ایپ بھی ڈب میش سے ملتی جلتی ہے جس میں کسی فلم یا گانے کے مشہور جملے کے بول پر ویڈیو بنائی جاتی ہے جس کو ویڈیو سیلفی کا نام دیا گیا ہے۔2014 پوری دنیا میں سیلفی کا سال تھا البتہ 2015 انڈیا میں اب ویلفی کا سال ہوگا۔ اس ایپ کے ذریعے لوگ سوشل میڈیا پر ویڈیو ڈالنے سے پہلے اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔جرمنی میں بنائی گئی ایپلیکیشن ڈب میش دنیا بھر میں نہایت مقبول ہوئی اور اس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایپ 192 ملکوں میں تقریباً 50 ملین مرتبہ ڈاو¿ن لوڈ کی جاچکی ہے۔ڈب پیش کا بخار انڈیا میں بولی وڈ میں بھی کافی آگے تک گیا، اداکاروں اور ان کے پرستاروں نے اس ایپ کے ذریعے ویڈیوز بناکر فیس بک اور انسٹاگرام پر متعدد بار شئیر کی۔بولی وڈ کے اداکار سلمان خان اور سوناکشی سنہا کی ڈب میش پر بنائی جانے والی ویڈیوز سوشل میڈیا پر نہایت مقبول ہوئی تھیں۔انڈین ویلفی کے شریک بانی رام موہن سندرم نے ویلفی کو اپریل کے مہینے میں لانچ کیا، ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو کے ذریعے اداکار اپنے پرستاروں سے بہتر طریقے سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سندرم کا کہنا تھا کہ سیلفی صرف ایک تصویر ہوتی ہے البتہ ویلفی کے زریعے لوگوں تک اپنے جذبات بھی پہنچائے جاسکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیلفی کی اپنی اہمیت ہے کیوں کہ تصاویر ہمیشہ ایک یاد کی طرح رہتی ہے البتہ وہ اس کو مزید مزیدار بنا رہے ہیں۔حال ہی میں اداکار اکشے کمار نے اپنی فلم گبر از بیک کو پروموٹ کرنے کے لیے ویلفی کا استعمال کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے پرستاروں کو فلم کا ڈائیلاگ بولنے کے ساتھ ویڈیو بنانے کو کہا اور اداکار سے ملنے کا موقع جیتنے کو کہا۔سندرم کے مطابق اس ایپ کو اب تک 200000 مرتبہ 140 ملکوں میں ڈاو¿ن لوڈ کیا جاچکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ایپ کے زریعے جتنی چاہیں ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں اور ویڈیوز کا دورانیہ 10 سیکنڈز رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…