اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا گردشی قرض کنٹرول نہ کرپانے کا اعتراف، قرض کے خاتمے کے اعلان کے حوالے سے اسد عمر اور عمر ایوب کے بیانات میں تضاد

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرگردشی قرضہ کنٹرول نہ کرپانے کا اعتراف کر لیا، انہوں نے وزیر توانائی عمر ایوب کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا دسمبر 2020 تک گردشی قرضہ ختم ہو جائیگا، عمر ایوب کو نہ جانے کون یہ کہتا تھا گردشی قرضہ ختم ہو جائیگا،انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کو آئندہ ڈھائی سالوں میں 1400 میگاواٹ

اضافی بجلی دیں گے۔کابینہ کی توانائی کمیٹی کے سربراہ اسد عمر نے توانائی سیکٹر پر اہم بریفنگ میں کہا کہ 2022 میں بجلی 74 پیسے 2023 میں 66 پیسے فی یونٹ سستی ہو گی، کم صلاحیت والے پلانٹس کو بند کر کے بہتر کارکردگی والے پاور پلانٹس چلائیں گے۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا ٹیرف ایک تہائی کم کر دیا گیا ہے،آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر جلد حتمی پیشرفت ہوگی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ کبھی نہیں کہا کہ دسمبر 2020 تک گردشی قرضہ ختم ہو جائیگا۔ عمر ایوب کو نہ جانے کون یہ کہتا تھا کہ گردشی قرضہ ختم ہو جائے گا۔حکومت میں آتے ہی بجلی 12 روپے فی یونٹ مہنگی کرتے تو سرکلر ڈیٹ ختم ہوتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سالانہ 1000 ارب روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں خرچ ہو رہے ہیں، ماضی میں درآمدی کوئلے سے بجلی کے منصوبے لگائے گئے، گذشتہ حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام پر توجہ نہیں دی۔انہوںنے کہاکہ پاورسیکٹر کے موجودہ نظام سے سرمایہ دار، سیاستدان اور سرکاری افسران فیض یاب ہوئے،آئی پی پیز سے معاہدو پر نظرثانی سے 3 سال میں 300 ارب کا ریلیف بجلی صارفین کو ملے گا، معاہدوں پر نظر ثانی سے بجلی ایک روپیہ 40 پیسے فی یونٹ سستی ہو گی۔اسد عمر نے بتایا کہ ڈھائی سال میں ترسیلی نظام کے 31 منصوبوں کو مکمل کیا گیا،پاور سیکٹر میں ٹیکنیکل ماہرین کی

شدید قلت ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے بجلی لاسز میں اضافہ ہوا۔ اسد عمر نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ کے۔الیکٹرک کا ٹرانسمیشن سسٹم ٹھیک نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کے-الیکٹرک کو آئندہ ڈھائی سالوں میں 1400 میگاواٹ اضافی بجلی دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں بجلی کی پیداواری لاگت کم اور مسابقتی مارکیٹ پیدا کرنی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ ماضی میں بجلی کے اتنے کارخانے لگائے گئے جتنی ضرورت نہ تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…