اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’پاکستان میں 70 لاکھ افراد منشیات کے عادی‘

datetime 6  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان میں تقریباً ستر لاکھ لوگ منشیات کے عادی ہیں جبکہ اس کے روزانہ استعمال کے نتیجے میں 700 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور انسداد منشیات کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔اجلاس میں انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خاور حنیف نے منشیات کے عادی افراد کی بہبود کیلئے منشیات کنٹرول ڈویژن کے اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔خاور حنیف نے بتایا کہ ملک میں تیس لاکھ افراد ڈاکٹری نسخہ کے بغیر ادویات استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ منشیات کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد دہشت گردی میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ دہشت گردی سے اوسطاً 39 جبکہ منشیات کی وجہ سے 700 ہلاک ہوتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کو 2011 سے ’پوست فری‘ قرار دیا جا چکا ہے لیکن افغانستان میں پوست کی کاشت 7000 ہیکٹر سے بڑھ کر 22500 ہیکٹر تک جا پہنچی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی نے بتایا کہ 32 ملکوں کے حکام منشیات کنٹرول کرنےکیلئے پاکستان میں تعینات ہیں جبکہ اس حوالے سے ایران کے سوا پاکستان کے کسی عہدے دار نے بیرون ملک خدمات سرانجام نہیں دیں۔سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے ای این ایف کے چار ہسپتال کام کر رہےہیں جبکہ ایک صوبہ کے پی میں زیر تعمیر ہے۔ڈی جی نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فورس کو کسی دوسرے ذریعہ سے براہ راست فنڈز نہیں ملتے اسی لیے وہ مکمل طور پر وزارت خزانہ پر انحصار کرتے ہیں۔’سعودی عرب نے ہمیں کچھ سکینرز دیے ہیں جو واہگہ بارڈر پر نصب ہیں۔ اسی طرح متعلقہ آلات کی فراہمی کیلئے چین سے بھی بات چیت جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال 13انٹرنیشنل گروہوں سمیت 106 منشیات کے گروہوں کو ختم کیا گیا۔’2015 میں تقریباً 344 ، 2014 (426)، 2013 (540)جبکہ 2012 میں 552مجرموں کے خلاف مقدمے چلائے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…