جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز  کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے آن لائن کورونا وائرس کی ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات کے پھیلا ئوکے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تینوں کمپنیاں دنیا بھر میں حقائق جانچنے والے اداروں اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر جلد متعارف ہونے والی کورونا ویکسینز کے بارے میں غلط اور گمراہ کن رپورٹس کی روک تھام کی جائے گی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے تینوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک نئی شراکت داری کی ہے جس کے تحت محققین اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر اینٹی ویکسین تفصیلات پھیلانے کے حوالے سے ردعمل کا فریم ورک تیار کیا جائے گا۔برطانیہ کے حقائق جانچنے والے ادارے فل فیکٹ نے ایک بیان میں بتایاکہ اس وقت جب کورونا ویکسین ممکنہ طور پر چند ماہ میں متعارف ہوسکتی ہے، اس کے حوالے سے گمراہ کن رپورٹس اور تفصیلات کی لہر ویکسین کے حوالے سے لوگوں کے اعتماد کو ختم کرسکتی ہے، یہ پراجیکٹ ماضی کی کی اس طرح کی مہمات سے سیکھے گئے سبق کو مدنظر رکھ کر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ ہم اگلے بحران کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کے قابل ہوجائیں۔فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر تینوں اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے جن کے ساتھ امریکا، برطانیہ، بھارت، اسپین، ارجنٹائن اور افریقہ کے حقائق جانچنے والے ادارے ہوں گے، جبکہ برطانیہ کے سرکاری ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا و اسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اورر کینیڈا کی پرائیوی کونسل آفس بھی اس کا حصہ ہوں گے۔فل فیکٹ کے مطابق یہ گروپ گمراہ کن تفصیلات کی روک تھام کے لیے اصول مرتب کرے گا اور ایسا مشترکہ فریم ورک تیار کیا جائے گا تاکہ اس کے خلاف کام کیا جاسکے۔خیال رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے اینتی ویکسین سازشی خیالات کے خلاف کچھ اقدامات کیے گئے ہیں۔مثال کے طور پر فیس بک نے حال ہی میں ویکسینز کی حوصلہ شکنی کرنے والے اشتہارات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا، مگر کمپنی نے انسٹاگرام اور فیس بک گروپس میں ویکسین سازشی خیالات کو پھیلنے دیا۔ٹوئٹر نے بھی حال ہی میں کووڈ 19 ویکسینز کے حوالے سے غلط رپورٹس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کو ہٹایا نہیں جائے گا۔ٹوئٹر کی جانب سے مستند تفصیلات کے پھیلا کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…