جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چینی فوج  ایسے ہتھیار سامنے لے آئی جنہیں دیکھ کربھارتی فوج  میں خوف کی لہر دوڑ گئی 

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

بیجنگ (آن لائن  ) لداخ بارڈر پر چینی فوج کے خطرناک ہتھیار ’’مائیکروویو پلس‘‘ سے بھارتی فوجیوں کے پسینے چھوٹ گئے۔ چین کی جانب سے نصب کیے گئے مائیکروویو پلس ہتھیار نے بھارتی فوجیوں کی حالت خراب کردی ہے جس کے بعد بھارتی فوجی خود ہی مورچے چھوڑ کر بھاگنے لگ گئے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق چینی ماہر تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی افواج نے کوہ ہمالیہ کے

دو پہاڑوں کو برقی مقناطیسی ہتھیار کے ذریعے مائیکروویو اوون میں تبدیل کردیا ہے جس کے بعد کئی بھارتی فوجی بیمار پڑ گئے ہیں۔بیجنگ کی یونیورسٹی رن مین کے پروفیسر جن کان رونگ نے بتایا کہ چینی افواج نے دو پہاڑوں کو مقناطیسی ہتھیار کے ذریعے اس حد تک گرم کر دیا ہے کہ بھارتی فوجی قے کر کر کے بے حال ہو گئے اور ہمالیہ ریجن میں گرمی سے ان کا برا حال ہو گیا۔جس کے بعد کئی پوسٹوں سے بھارتی فوجی واپس چلے گئے اور چین نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ایک بھی گولی ضائع کیے بغیر پوسٹیں حاصل کر لیں۔غیر ملکی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک لیکچر میں پروفیسر جن کان رونگ نے بتایا کہ پیپل لبریشن آرمی نے خوبصورتی سے ایک بھی فائر کیے بغیر بھارتی فوجیوں سے چیک پوسٹ خالی کروالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرو میگنیٹک ہتھیار کی مدد سے انسانی جسم کے ٹشوز کو پکا دیا جاتا ہے جس کے بعد انسانی دماغ کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ چین کی جانب سے ہمالیہ کے دو پہاڑوں کو مائیکروویو اوون بنائے جانے کے بعد بھارتی فوجی قے کرتے رہے۔مائیکروویو ہتھیار پانی کے مالیکیولز کو گرم کرتا ہے اور جلد کے اندر موجود پانی بھی ابلنا شروع ہو جاتا ہے جس سے ناقابل برداشت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مائیکروویو ہتھیار کی رینج آدھے میل کے فاصلے تک ہو تی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی افواج یہ ہتھیار اگست کے آخر میں لداخ بارڈر پر لائی تھی ، جس کے بعد ایک شدید جھڑپ میں تقریباََ 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس جھڑپ کے بعد چین پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے نیوکلیئر ہتھیار بارڈر کے نزدیک لائے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…