منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں کونسی خوفناک بیماری کے مریضوں کی تعداد  23 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )دنیا بھر میں میں خسرہ کے مریضوں کی تعداد  23 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جب کہ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بیشتر ممالک کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے  بہت کم لوگوں کو حفاظتی ویکسین لگا رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق

گزشتہ برس دنیا بھر میں خسرہ کے 8 لاکھ 69 ہزار 770 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ  اس مرض سے ہونے والی اموات میں بھی 2016 کے مقابلے 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران خسرہ کا پہلا انجیکشن لگنے کی شرح جمود کا شکار رہی اور عالمی وبا کے دوران قطرے پلانے کی شرح میں کمی نے 9 کروڑ40 لاکھ لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا۔عالمی ادارہ صحت خسرہ کے حوالے سے ٹیکنیکل افسر پروفیسر نتاشہ کروکرافٹ کا کہنا ہے کہ ہوا کے ذریعے پھیلنے والی اس بیماری سے گزشتہ برس 2 لاکھ 7 ہزار 5 سو اموات ریکارڈ کی گئی جب کہ کانگو ،مداگاسکر ،جارجیا ،قازقستان اور یوکرین سمیت9 ممالک میں خسرہ کے مجموعی کیسز کی 73فیصد شرح پائی جاتی ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ صورتحال کو اس چنگاری کی مانند قرار دیا جو کہ جنگل میں آگ کا باعث بند سکتی ہے۔گاوی ویکسین گروپ کے سربراہ سیٹھ برکلیکا کہنا ہے کہ خسرہ کی بیماری مکمل طور پر قابل علاج ہے ایک ایسے وقت میں جب ہمارے پاس ایک محفوظ، مثر اور کم قیمت والی ویکسین موجود ہے ایسے میں کسی بھی شخص کو اس بیماری سے نہیں مرنا چاہیے۔تاہم یہ بات اہم ہے کہ رواں برس خسرہ اور دیگر متعدی بیماروں میں کمی ہوئی ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کے خلاف اپنائی جانے والی احتیاطی تدابیر ہیں کیونکہ ان سے دیگر وائرسز کے پھیلا میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…